کراچی (ویب ڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پاکستان) نے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو قومی سطح پر ڈائیلاگ کی دعوت دے دی۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی تجویز پر ملک کی مختلف سیاسی جماعتیں بھی آواز اٹھا رہی ہیں۔ انہوں نے ملک بھر کی سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے نئے صوبوں کے معاملے پر مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔
ایم کیو ایم چیئرمین کا کہنا تھا کہ ملک میں نئے صوبے آبادی کی بنیاد پر قائم کیے جانے چاہئیں اور سندھ میں نئے صوبوں کا مقدمہ سب سے زیادہ مضبوط ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر نئے صوبوں کا قیام غلط یا غداری ہے تو آئین پاکستان میں اس کا ذکر کیوں موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے ماضی میں آئینی ترمیم کے لیے جدوجہد کی اور عمل درآمد نہ ہونے پر سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا، جبکہ نئے صوبوں کے معاملے پر بھی عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کے لیے وکلا سے مشاورت کر لی گئی ہے۔
نئے انتظامی یونٹس سندھیوں کے خلاف نہیں، مصطفیٰ کمال
ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک چلانے والوں کو اب یہ ادراک ہوچکا ہے کہ ملک کو مضبوط بنانے اور مسائل کے حل کے لیے نئے انتظامی یونٹس بنانا ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانا چاہتی تھی اور اس حوالے سے سب نے اتفاق کیا، تاہم پیپلز پارٹی نے لوکل باڈی ترامیم کی مخالفت کی۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اب انتظامی یونٹس بنانے کی ہر تحریک کا حصہ بنے گی۔ نئے انتظامی یونٹس کا قیام سندھیوں کے خلاف نہیں بلکہ ان کے حق میں ہے، کیونکہ اس سے سندھ کے مختلف علاقوں کے عوام، بالخصوص کسانوں کو بھی زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے۔
نئے انتظامی یونٹس سندھ کی تقسیم نہیں، فاروق ستار
ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کہا کہ وڈیرے اور جاگیردار اپنے سیاسی مفادات کے لیے سندھی عوام کو گمراہ نہ کریں۔ ان کے بقول نئے انتظامی یونٹس کا قیام سندھ کی تقسیم نہیں بلکہ انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی کوشش ہے۔
فاروق ستار نے کہا کہ سکھر، لاڑکانہ اور میرپورخاص میں نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جانے چاہئیں اور ان علاقوں کے انتظامی امور مقامی حکمرانوں اور افسران کے ذریعے چلائے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کے اصل مسائل کی بڑی وجہ وڈیرہ اور جاگیردارانہ نظام ہے اور غریب عوام کو اس نظام سے نجات دلانا ضروری ہے۔
فاروق ستار نے مزید کہا کہ سندھ کے عوام کو انتظامی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کا نام لیے بغیر سخت سیاسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایم کیو ایم کا گورنر چھینا گیا، اب وہ سندھ کے عوام کے معاملات چلانے کا یکطرفہ اختیار ختم کرنے کی جدوجہد کریں گے۔
ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر سیاسی جماعتوں اور عوامی نمائندوں کے ساتھ قومی سطح پر مکالمے کا عمل شروع کیا جانا چاہیے۔