کراچی: لیاری میں جماعت اسلامی کے زیرِ تعمیر دفتر پر دستی بم حملہ، بی ڈی یو کی ابتدائی رپورٹ جاری

کراچی (15 جولائی 2026): لیاری کے علاقے پھول پتی لین میں جماعت اسلامی کے زیرِ تعمیر دفتر پر ہونے والے دستی بم حملے کے بعد بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) نے جائے وقوعہ کا معائنہ کر کے اپنی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی۔

بی ڈی یو کے مطابق حملے میں روسی ساختہ آر جی ڈی ون (RGD-1) دستی بم استعمال کیا گیا۔ جائے وقوعہ سے دستی بم کا لیور، باڈی کے تقریباً 20 چھوٹے اور بڑے ٹکڑے برآمد ہوئے، جبکہ دھماکے کے باعث زمین میں تقریباً 3 انچ گہرا اور 8 انچ چوڑا گڑھا پڑ گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ لیاری میں ماضی میں ہونے والے دستی بم حملوں میں بھی تقریباً 60 سے 70 فیصد روسی ساختہ دستی بم استعمال کیے گئے تھے۔دوسری جانب امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے سول اسپتال میں حملے کے زخمیوں کی عیادت کی۔ اس موقع پر انہوں نے حملے کو بدترین دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے میں جماعت اسلامی کے تین کارکن زخمی ہوئے، جبکہ گنجان آباد علاقے سے حملہ آوروں کا فرار ہونا پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔منعم ظفر کا کہنا تھا کہ کراچی اور سندھ میں بڑھتی بدامنی نے شہریوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، تاہم حق دو لیاری مہم اور بدل دو نظام تحریک ہر صورت جاری رکھی جائے گی۔