سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی چیئرپرسن اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ کنیکٹیویٹی کے نام پر عوام کا استحصال نہیں کیا جا سکتا۔نمائندہ اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دو روز قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیمِ نو) ترمیمی بل پیش کیا گیا تھا۔ بل کی مختلف شقوں پر کمیٹی کے اراکین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ ماہرین کی رائے اور مشاورت کے بغیر اس بل کی منظوری ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بل پر کھلی عوامی سماعت (پبلک ہیرنگ) کرانا چاہتی ہیں تاکہ تمام متعلقہ فریقین کی آراء سامنے آ سکیں۔انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ یہ بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے منظوری حاصل کرنے کے بعد سینیٹ تک کیسے پہنچا، جس پر مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔