پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان اہم مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک اسکی ریزورٹ میں ہوں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں، جبکہ ان کے ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود ہیں۔وزارت خارجہ کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد یہ پہلی باضابطہ اعلیٰ سطح کی ملاقات ہوگی، جس میں طے شدہ مفاہمتوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتوں کی حمایت جاری رکھے گا۔امریکی وفد کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس، وائٹ ہاؤس کے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور صدر کے مشیر جیرڈ کشنر کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔ وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی بھی شامل ہیں۔رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی متوقع ہیں۔ سوئس وزارت خارجہ نے دونوں ممالک کے وفود اور پاکستان کا بطور ثالث خیر مقدم کیا ہے۔ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ مذاکرات کے پہلے مرحلے کے اختتام پر ایران اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات کے دورے کی اجازت دے۔ اس کے بدلے امریکا ایران کو منجمد فنڈز کے ایک حصے تک رسائی دینے پر آمادہ ہے، جس کا آغاز قطر میں موجود 6 ارب ڈالر کے فنڈ سے کیا جا سکتا ہے۔مذاکرات میں ایران، امریکا، پاکستان، قطر اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے اعلیٰ سطحی نمائندے شریک ہوں گے۔