فرانسیسی عوام کی آواز سنیں

فرانسیسی عوام کی آواز سنیں، یہ بات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو مظاہروں کی وجوہات پر توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہی۔ عراقچی نے کہا کہ میکرون کو چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کو سمجھیں اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔عراقچی نے مزید کہا کہ فرانس میں جاری مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام کی آواز کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے میکرون سے درخواست کی کہ وہ اپنی حکومت کی پالیسیوں پر نظرثانی کریں اور عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھیں۔ یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب حکومت نے کچھ متنازعہ اصلاحات کا اعلان کیا، جس نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا۔ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ فرانس میں ہونے والے مظاہروں کی صورتحال پر نظر رکھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی احتجاج ایک جمہوری حق ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ عراقچی نے میکرون کو مشورہ دیا کہ وہ عوام کے ساتھ بات چیت کریں اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔آخر میں، عباس عراقچی نے کہا کہ اگر میکرون عوام کی آواز کو سننے میں ناکام رہے تو یہ ان کی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فرانس کی حکومت عوامی مسائل کو سنجیدگی سے لے گی اور ان کے حل کے لیے اقدامات کرے گی۔