سائنسدانوں نے 5,500 سال پرانی طاعون کی قدیم ترین وبا کا سراغ لگا لیا

سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا کی قدیم ترین معلوم طاعون (پلیگ) کی وبا تقریباً 5 ہزار 500 سال قبل سائبیریا کے جھیل بائیکال کے علاقے میں پھیلی تھی، جس کا شکار بڑی تعداد میں بچے اور نوجوان ہوئے تھے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس اور سائنسی تحقیق کے مطابق تاریخ میں طاعون کی دو بڑی وبائیں، “پلیگ آف جسٹینین” اور “بلیک ڈیتھ”، لاکھوں افراد کی ہلاکت کا سبب بنی تھیں۔ تاہم نئی تحقیق نے اس مہلک بیماری کی جڑیں اس سے بھی ہزاروں سال پہلے تک پہنچا دی ہیں۔بین الاقوامی سائنسی جریدے Nature میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ماہرین نے جھیل بائیکال کے قریب واقع قدیم قبرستانوں سے ملنے والی انسانی باقیات کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا، جس سے Yersinia pestis نامی بیکٹیریا کے قدیم ترین شواہد سامنے آئے۔تحقیق کے دوران 46 انسانی باقیات کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 18 افراد میں طاعون کے آثار پائے گئے۔ ماہرین کے مطابق متاثرین میں بڑی تعداد بچوں اور کم عمر افراد کی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وبا وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی تھی۔محققین کا کہنا ہے کہ اس دور میں جراثیم چوہوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتے تھے، جبکہ بعد میں یہی بیماری دیگر جانوروں کے ذریعے بھی انسانوں تک پہنچی۔ ماہرین کے مطابق قدیم طاعون میں ایسی جینیاتی خصوصیات موجود تھیں جو بعد کی وباؤں میں نہیں پائی گئیں، جس کے باعث بچوں میں شدید سوزش اور پیچیدگیاں پیدا ہوتی تھیں۔حقیق کے سینئر مصنف Eske Willerslev کے مطابق یہ دریافت طاعون کی ابتدا اور انسانی تاریخ پر اس کے اثرات سے متعلق موجود تصورات کو تبدیل کر سکتی ہ