ذیابیطس دنیا بھر میں ایک بڑھتا ہوا صحت کا بحران بنتا جا رہا ہے، جہاں موجودہ تخمینوں کے مطابق 589 ملین بالغ افراد (عمر 20–79 سال) اس مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، یعنی ہر 9 میں سے 1 بالغ شوگر کا شکار ہے۔ اندازہ ہے کہ 2050 تک یہ تعداد 853 ملین تک پہنچ سکتی ہےپاکستان میں صورت حال تشویشناک ہے، تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق بالغوں میں ذیابیطس کی شرح 31.4 فیصد ہے، یعنی تقریباً 3 کروڑ 45 لاکھ افراد، جو پاکستان کو دنیا میں ذیابیطس کے بوجھ والا سب سے بڑا ملک بناتا ہےاسلام آباد میں قائم پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ذیابیطس کے مریضوں کی بڑی تعداد او پی ڈی وزٹس اور داخل مریضوں میں شامل ہے۔ یہاں مریض پیچیدگیوں جیسے ڈایابیٹک فٹ، نیوروپیتھی اور گردوں کے مسائل کے ساتھ آتے ہیں۔ پمز کی میڈیکل او پی ڈی میں تقریباً 10 ہزار یا اس سے زائد مریض ذیابیطس کے باقاعدہ فالو اپ پر ہیں اور یہ تعداد ہر ماہ بڑھ رہی ہےاکتوبر کے آخر سے نومبر 2025 تک جنرل میڈیسن ڈپارٹمنٹ نے پروفیسر ڈاکٹر شِفات خاتون کی قیادت میں مختلف تعلیمی اور آگاہی سرگرمیاں شروع کیں، جن میں آئی ایم سی بی H-9/4 اسلام آباد اور کامسیٹس یونیورسٹی میں پروگرام شامل تھے۔ 19 سے 26 نومبر تک پمز میں پری کانفرنس ورکشاپ اور مرکزی ’’ورلڈ ڈایابیٹیز ڈے 2025‘‘ کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں طرزِ زندگی کے گروپ سیشنز، اے آئی اِن میڈیسن تربیتی ورکشاپ، کلیدی تقاریر، پینل مباحثے اور عوامی آگاہی پروگرام شامل تھےبےنظیر بھٹو میڈیکل کالج لیاری میں ایڈوانس سرجری میں روبوٹ کے ذریعے مریضہ کا ٹیومر بھی نکالا گیا۔ جنرل میڈیسن ڈیپارٹمنٹ اور دیگر شعبوں کے معالجین پر مشتمل آگاہی پروگرام میں متوازن غذا، کم چینی، باقاعدہ ورزش، اسٹریس میں کمی اور معمول کی اسکریننگ جیسے احتیاطی اقدامات پر زور دیا گیایہ تمام سرگرمیاں واضح کرتی ہیں کہ پمز بڑھتی ہوئی ذیابیطس کی وبا سے نمٹنے کے لیے کمیونٹی تک رسائی، ابتدائی اسکریننگ، احتیاطی تعلیم اور جدید طبی تربیت کے ذریعے اپنا عزم جاری رکھے