پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور سابق چیئرمین سینیٹ فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ اگر ستائیسویں آئینی ترمیم کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تو یہ دو تہائی اکثریت سے منظور ہو جائے گا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین کی حیثیت سے وہ سمجھتے ہیں کہ آئینی بینچز کے قیام پر اگرچہ تنقید کی گئی، تاہم یہ اقدام آئین کی بالادستی کے لیے ناگزیر تھا۔فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے ایوان میں واضح طور پر کہا کہ انہوں نے فیلڈ مارشل کی وجہ سے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، نہ کہ کسی دباؤ یا مجبوری کے تحت۔ان کا کہنا تھا کہ صدرِ مملکت ریاست کے ہوتے ہیں، حکومت کے نہیں، جبکہ وزیر اعظم نے تاحیات استثنیٰ نہ لے کر درست اور جمہوری فیصلہ کیا۔پیپلز پارٹی کے سینیٹر نے مزید کہا کہ شق وار منظوری کے دوران اپوزیشن نے سینیٹ اجلاس کا بائیکاٹ کیا، حالانکہ بہتر یہ ہوتا کہ وہ ایوان میں رہ کر ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیتے۔انہوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے بلدیاتی بل کے معاملے پر کمیٹی اراکین کو تحفظات تھے، تاہم حکومت نے مذاکرات کے ذریعے اختلافات ختم کرنے کی کوشش کی۔واضح رہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم بل سینیٹ سے منظوری کے بعد آج قومی اسمبلی میں حتمی ووٹنگ کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔