امجد صابری قتل کیس: ’دلدار چچا‘ کے خفیہ دہشت گرد نیٹ ورک کی تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آگئیں

کراچی: معروف قوال Amjad Sabri کے قتل کیس میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق ’دلدار چچا‘ کے نام سے مشہور ایک شخص مبینہ طور پر خفیہ دہشت گرد نیٹ ورک کا سرغنہ تھا اور لیاقت آباد میں واقع ایک عام سی دکان اس نیٹ ورک کا مرکز بنی ہوئی تھی۔رپورٹس کے مطابق مذکورہ دکان بظاہر الیکٹریکل اور پلمبنگ کے سامان کی دکان تھی، تاہم اندر خفیہ ورکشاپ قائم تھی جہاں اسلحے کی مرمت، صفائی اور تیاری کی جاتی تھی، جبکہ مختلف ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی بھی یہیں کی جاتی تھی۔تحقیقات میں بتایا گیا کہ دلدار چچا کالعدم تنظیموں سے وابستہ تھا اور بم بنانے میں مہارت رکھتا تھا۔ اس پر متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں معاونت کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق وہ امجد صابری قتل کیس کے مرکزی ملزم اسحاق بوبی کا سسر تھا۔22 جون 2016 کو رمضان المبارک کے دوران امجد صابری اپنے گھر سے ایک ٹی وی پروگرام میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے تھے کہ موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر ایک پستول جام ہوگیا، جس کے بعد دوسرے ہتھیار سے فائرنگ کرکے انہیں قتل کیا گیا۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحقیقات کے بعد اسحاق بوبی اور آصف کیپری کو گرفتار کیا گیا۔ حکام کے مطابق دونوں ملزمان دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔ دورانِ تفتیش ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے امجد صابری کو اپنے انتہا پسند نظریات کی بنیاد پر نشانہ بنایا۔بعد ازاں 6 مارچ 2017 کو دلدار چچا مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ حکام کے مطابق اس کے خفیہ ٹھکانے سے اسلحہ، بارودی مواد اور دھماکا خیز کیمیکل بھی برآمد ہوئے۔ سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد اس گروہ کا نیٹ ورک ختم ہوگیا اور کراچی میں اس نوعیت کی فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں نمایاں کمی آئی۔