کراچی: سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کبھی یہ نہیں کہتا کہ بڑے جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور تاجروں سے ٹیکس وصول نہ کیا جائے یا بجلی چوری، اسمگلنگ اور غیر دستاویزی معیشت کے خلاف کارروائی نہ کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات حکومت کو خود کرنے ہوتے ہیں، اس لیے بجٹ 2026-27 میں سخت، مؤثر اور جرات مندانہ فیصلے ناگزیر ہوں گے۔مائی ریڈار” میں گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس سمیت کئی مقامات پر جائیدادوں کی سرکاری اور مارکیٹ قیمتوں میں نمایاں فرق موجود ہے، جبکہ لین دین اکثر نقد رقم میں کیا جاتا ہے، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برسوں میں اسٹیٹ بینک کے منافع سے حکومت کو ہزاروں ارب روپے حاصل ہوئے، جبکہ پیٹرولیم لیوی میں بھی تقریباً 1500 سے 1600 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا، جس کا براہِ راست بوجھ عوام نے برداشت کیا۔