سکھر: ایئرپورٹ تھانے کی پولیس کے خلاف خواتین اور بچوں کا احتجاج، رشوت اور گمشدگی کے الزامات

سکھر (بیورو رپورٹ): سکھر کے ایئرپورٹ تھانے کی پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف گاؤں شیر محمد خروس کی رہائشی خواتین اور معصوم بچوں نے قرآن پاک اٹھا کر سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

احتجاج کرنے والی خواتین نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکار ریاض کورائی، نظیر کلہوڑو اور دیگر ان سے رشوت طلب کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان کے نوجوان جاوید خروس کو حراست میں لے کر لاپتا کر دیا ہے اور اس کی رہائی کے لیے پانچ لاکھ روپے رشوت مانگی جا رہی ہے۔

خواتین نے مزید الزام لگایا کہ ایئرپورٹ تھانے کا ایس ایچ او انہیں دھمکیاں دے رہا ہے کہ اگر رقم ادا نہ کی گئی تو جاوید خروس کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا جائے گا۔

مظاہرین کے مطابق پولیس ان کے ایک اور نوجوان کو بھی اٹھا کر لے گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب محافظ ہی ظلم کرنے لگیں تو وہ انصاف کے لیے کہاں جائیں۔

ایک خاتون نے بتایا کہ اس سے قبل بھی پولیس نے ان کے بیٹے کو گرفتار کرکے 35 ہزار روپے رشوت وصول کی تھی اور اب دوبارہ اسی طرح کی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے۔

احتجاج کرنے والوں کا کہنا تھا کہ وہ غریب لوگ ہیں اور اتنی بڑی رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق جاوید خروس دودھ فروخت کرکے اپنے خاندان کا گزر بسر کرتا تھا، لیکن پولیس نے اسے گرفتار کر لیا ہے۔

مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، لاپتا نوجوانوں کو بازیاب کرایا جائے اور ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔