اسلام آباد کچہری کے باہر پیش آنے والے خودکش دھماکے کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی ہے اہم نکات اور واقعے کا تسلسل درج ذیل ہے آمد و اعزاز: خودکش حملہ آور پیدل کچہری کے باہر پہنچا اور کچھ دیر تک گیٹ کے قریب بیٹھا رہاکوشش داخلے کی: کچہری کے اندر جانے والوں کی سکیورٹی چیکنگ جاری تھی؛ ابتدائی رپورٹ کے مطابق حملہ آور بظاہر کچہری کے اندر داخل ہونا چاہتا تھاچیکنگ کے باعث رکاؤٹ: سکیورٹی چیکنگ کی وجہ سے حملہ آور رک گیا۔ اس کے بعد اس نے سڑک پر خود کو دھماکے سے اڑا لیاحاضری دھماکے کے وقت موقع پر تقریباً 35 تا 40 افراد موجود تھےجانی و مالی نقصان: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق واقعہ 12:39 بجے پیش آیا اس میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے ہیںفوری ردعمل: وزیر داخلہ واقعہ مقام پر پہنچ گئے جہاں انہیں آئی جی اسلام آباد اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بریفنگ دی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے زخمیوں کے فوری علاج کی ہدایت کی ہےحملہ آور اور منصوبہ بندی: محسن نقوی نے کہا کہ حملہ آور کچہری کے اندر جانے کا پلان کر رہا تھا؛ اندر جانے کا موقع نہ ملنے پر اس نے پولیس کی گاڑی پر حملہ کیا اور خود کو اڑا لیاتفتیش اور بین الاقوامی پہلو: وزیر داخلہ نے کہا کہ پہلی ترجیح حملہ آور کی شناخت ہے اور اس واقعے میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ انہوں نے وانا میں ہونے والے حالیہ کار سوار خودکش واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وانا حملے میں افغانستان ملوث پایا گیا ہے اور دہشتگرد افغانستان سے رابطے میں ہیں؛ افغانستان کو شواہد فراہم کیے گئے ہیں اور کلیئرنس جاری ہےحکام کا موقف تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات تفتیش کے بعد جاری کی جائیں گی متعلقہ ادارے جگہِ وقوع، شواہد اور سکیورٹی پروٹوکول کا معائنہ کر رہے ہیںنوٹ: یہ رپورٹ ابتدائی معلومات پر مبنی ہے؛ تفتیش کے دوران حقائق میں تبدیلی یا اضافی معلومات سامنے آنے کا امکان رہتا ہے