تہران میں مکہ معاہدہ

تہران میں مکہ معاہدہ: مشاہد حسین نے قیادت کا کریڈٹ دیا

اسلام آباد: تہران میں مکہ معاہدہ کے حوالے سے مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ اس تاریخی اجلاس میں پاک، ترکیہ اور سعودی عرب کی قیادت کا اکٹھے ہونا ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے اس موقع پر فیلڈ مارشل کو اس کامیابی کا کریڈٹ دیا۔ یہ معاہدہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

مشاہد حسین نے مزید کہا کہ اس معاہدے کی بدولت اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف اقتصادی ترقی میں اضافہ ہوگا بلکہ سیاسی استحکام بھی حاصل ہوگا۔ تہران میں ہونے والا یہ اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی ممالک ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔

انہوں نے اس موقع پر کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں ہونے والے اس معاہدے کے نتائج دور رس ہوں گے۔ یہ معاہدہ نہ صرف تین ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرے گا بلکہ دیگر اسلامی ممالک کے لیے بھی ایک مثال قائم کرے گا۔ مشاہد حسین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس معاہدے کے ذریعے اسلامی دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔

آخر میں، مشاہد حسین نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن کی بحالی کا باعث بنے گا اور اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے عالمی سطح پر بھی ایک مثبت پیغام جائے گا۔