یروشلم: اسرائیل میں اقتدار کے حصول کے لیے کل سے میدان سج رہا ہے، جہاں اسرائیلی انتخابات کے دوران وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کو شدید ترین سیاسی چیلنج اور کانٹے دار مقابلے کا سامنا ہے۔ عالمی نشریاتی اداروں اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ان انتخابات کے تناظر میں ملک بھر کے علاوہ دنیا کے دیگر حصوں سے بھی ووٹرز کی بڑی تعداد اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔
تفصیلات کے مطابق، امریکا، کینیڈا اور مختلف یورپی ممالک سمیت دنیا کے تقریباً ستائسٹھ ہزار اسرائیلی ووٹرز پہلے ہی سفارتی مشنز اور خصوصی انتظامات کے تحت اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بار کے معرکے میں اپوزیشن اور برسرِ اقتدار اتحاد کے درمیان انتہائی سخت مقابلہ متوقع ہے، جس کے باعث پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کرنا کسی بھی فریق کے لیے آسان نہیں ہوگا اور نئی حکومت کی تشکیل کے لیے پیچیدہ سیاسی جوڑ توڑ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
موجودہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو، جو اسرائیل کی تاریخ میں طویل ترین عرصے تک اقتدار میں رہنے والے رہنما ہیں، اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنے کے لیے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں بننے والی مخلوط حکومت کو ملکی معیشت، عدالتی اصلاحات اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے نیتن یاہو کی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے عوام سے تبدیلی کے لیے ووٹ دینے کی اپیل کی ہے، جس سے انتخابی ماحول میں شدید گرم جوشی دیکھی جا رہی ہے۔
ان اسرائیلی انتخابات کے نتائج نہ صرف ملکی سیاست کی سمت کا تعین کریں گے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتِ حال پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔ انتخابی مہم کے دوران سیکیورٹی، معیشت، دفاعی پالیسی اور خارجہ امور کے موضوعات سب سے اہم محور رہے۔ مختلف رائٹ ونگ اور لیفٹ ونگ احزاب کے درمیان جاری تنازع نے ووٹرز کو شدید تقسیم کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں ہر ووٹر کا ووٹ فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گیا ہے۔
مبصرین کے مطابق، اسرائیلی انتخابات کے بعد اگر بنجمن نیتن یاہو مطلوبہ نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو اسرائیل میں ایک بار پھر سیاسی عدم استحکام اور بار بار کے انتخابات کی روایت لوٹ سکتی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن بھی اپنے اتحاد کو مستحکم رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ پولنگ کے مکمل ہونے اور حتمی نتائج کے اعلان تک ملک میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔