مری ٹریفک حادثہ

مری ٹریفک حادثہ: بریک فیل ہونے پر فرار ڈرائیور کی تلاش جاری

مری: ملکہ کوہسار کے قریب پیش آنے والا المناک مری ٹریفک حادثہ علاقہ بھر میں شدید غم و غصے اور تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ گزشتہ روز بریک فیل ہونے کے باعث مسافر گاڑی کو پیش آنے والے اس دردناک حادثے میں سات افراد جاں بحق جبکہ آٹھ شدید زخمی ہو گئے تھے۔ تاہم حادثے کے فوراً بعد گاڑی کا ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا ، جو تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آ سکا ہے۔ انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں مگر ابھی تک کوئی پیش رفت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

حادثے کے خونی مناظر اور ڈرائیور کا فرار

ریسکیو ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق مسافر گاڑی سڑک کی خطرناک ڈھلوان سے گزر رہی تھی کہ اچانک اس کے بریک ناکارہ ہو گئے۔ گاڑی کی تیز رفتاری اور بریک فیل ہونے کے بظاہر خوف سے ڈرائیور نے مسافروں کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑا اور خود چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا کر فرار ہو گیا۔ ڈرائیور کے کودنے کے بعد گاڑی بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری ، جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار افراد کو شدید چوٹیں آئیں اور موقع پر ہی چیخ و پکار مچ گئی۔

مقامی رہائشیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اور بعد ازاں پہنچنے والی ریسکیو 1122 کی ٹیموں کے ہمراہ امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ کھائی گہری اور راستہ دشوار ہونے کے باعث لاشوں اور زخمیوں کو نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دردناک مری ٹریفک حادثہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو فوراً قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ، جہاں بعض زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

پولیس کی تحقیقات اور مقدمہ درج

مقامی پولیس نے حادثے کا مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گاڑی کے مالکان اور فرار ہونے والے ڈرائیور کی شناخت کر لی گئی ہے۔ ڈرائیور کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مار رہی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والے ڈرائیور کو جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

ابتدائی فنی رپورٹ کے مطابق اس مری ٹریفک حادثہ کی بنیادی وجہ گاڑی کے بریکوں کا صحیح کام نہ کرنا اور گاڑی کی بروقت دیکھ بھال نہ ہونا سامنے آئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسافر گاڑیوں کی فٹنس چیک کرنے کے نظام میں شدید خامیاں موجود ہیں ، جس کی وجہ سے اکثر غیر معیاری اور غیر محفوظ گاڑیاں سڑکوں پر دوڑتی نظر آتی ہیں اور قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔

عوامی ردعمل اور روڈ سیفٹی کا سوال

علاقے کے شہریوں اور حادثے میں متاثرہ خاندانوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں چلنے والی گاڑیوں کی باقاعدہ فٹنس چیکنگ کو لازمی بنایا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ مالکان زیادہ منافع کمانے کے چکر میں پرانی اور ناکارہ گاڑیوں کو سڑکوں پر اتار دیتے ہیں ، جس کا خمیارہ عام شہریوں کو اپنی جان دے کر بھگتنا پڑتا ہے۔

انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مری ٹریفک حادثہ کے بعد تمام مسافر گاڑیوں کی سیکیورٹی اور فنی معائنے کے عمل کو سخت بنایا جائے گا۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ فرار ہونے والے ڈرائیور کو بہت جلد حراست میں لے لیا جائے گا اور اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا تا کہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔