سجاول: سندھ کے ضلع سجاول میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ مرک میمن قتل کیس میں پولیس نے نہایت اہم اور بڑی پیش رفت کرتے ہوئے واردات میں ملوث چوتھے مرکزی ملزم محمد گلزار برفت کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم کے قبضے سے وہ آلۂ قتل بھی برآمد کر لیا گیا ہے جو اس اندوہناک جرم میں استعمال کیا گیا تھا۔
ایس ایس پی سجاول محمد عثمان سدوزئی کی خصوصی ہدایات پر تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی تفتیشی ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی اور انسدادِ جرائم کے سائنسی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے ملزم کی خفیہ موجودگی کی اطلاع پر کامیاب چھاپہ مارا اور ملزم کو حراست میں لے لیا۔
مرک میمن قتل کیس نے پورے خطے کو دہلا کر رکھ دیا تھا جس کے بعد عوام اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید احتجاج کرتے ہوئے تمام ملزمان کی فوری گرفتاری اور کڑی سزا کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ ایس ایس پی سجاول کے مطابق اس مقدمے میں نامزد دیگر تین مرکزی ملزمان کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے اور اب چوتھے اہم ملزم کی گرفتاری کے بعد اس واقعے کی تمام اہم کڑیاں مکمل ہو چکی ہیں۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم محمد گلزار برفت سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ قتل کے پسِ پردہ تمام عوامل اور اصلی محرکات کو مکمل طور پر سامنے لایا جا سکے۔ پولیس نے برآمد ہونے والے آلۂ قتل کو فارنزک لیبارٹری بھیجنے کی تیاریاں بھی مکمل کر لی ہیں تاکہ عدالت عالیہ میں ملزمان کے خلاف ناقابلِ تردید ثبوت پیش کیے جا سکیں۔
ضلع سجاول کی پولیس انتظامیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مرک میمن قتل کیس کو ایک سخت ترین مثال بنایا جائے گا اور تمام قانونی تقاضے جلد از جلد مکمل کرتے ہوئے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ مقامی شہریوں اور متاثرہ خاندان نے پولیس کی اس تیز رفتار کارروائی کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ مظلوم بچی کے خون سے جلد انصاف کیا جائے گا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے سنگین مقدمات میں آلۂ قتل کی برآمدگی اور سائنسی شواہد بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، جس کی بنیاد پر عدالت میں مقدمہ مضبوطی سے پیش کیا جا سکے گا۔ ملزم کو جلد ہی مقامی عدالت میں پیش کر کے مزید جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔