ملازمت کا جھانسہ

ملازمت کا جھانسہ دے کر

صوبائی دارالحکومت کراچی کے علاقے گڈاپ میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملازمت کا جھانسہ دے کر درجنوں شہریوں کو لوٹنے والے ایک خطرناک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ملزم کی شناخت بابر کے نام سے ہوئی ہے جس نے 59 سے زائد لڑکیوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر ان کے قیمتی سمارٹ فونز اور دیگر اشیاء ہتھیا لی تھیں اور موقع سے فرار ہو گیا تھا۔گرفتاری اور پولیس کی حکمت عملیترجمان پولیس کے مطابق گڈاپ ڈویژن کی پولیس نے جدید ٹیکنالوجی، کال ڈیٹا ریکارڈز اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک کامیاب چھاپہ مار کارروائی انجام دی، جس کے نتیجے میں اس منظم فراڈ کے مرکزی ملزم کو دھر لیا گیا۔ ملزم کے قبضے سے متعدد مسروقہ موبائل فونز اور دیگر مشکوک سامان برآمد کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم گزشتہ کافی عرصے سے مختلف علاقوں میں معصوم اور روزگار کی تلاش میں سرگرداں خواتین کو نشانہ بنا رہا تھا۔ملزم کا طریقہ واردات اور سنسنی خیز انکشافاتتفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزم بابر مختلف ذرائع اور سوشل میڈیا کے ذریعے بے روزگار لڑکیوں سے رابطہ قائم کرتا تھا اور انہیں مختلف نجی اداروں و کمپنیوں میں پرکشش نوکریوں اور بھاری ماہانہ مراعات کا لالچ دیتا تھا۔ ملاقات کے دوران ملزم لڑکیوں کو مختلف بہانوں سے اعتماد میں لیتا اور ان سے فارم پر کرنے یا ٹیسٹ کے بہانے ان کے سمارٹ فونز اپنے پاس رکھوا لیتا تھا، اور جیسے ہی موقع ملتا، فون لے کر روپوش ہو جاتا تھا۔ابتدائی تفتیش کے دوران یہ سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ ملزم نے اب تک 59 لڑکیوں کو اپنا شکار بنایا ہے اور ان سے لاکھوں روپے مالیت کے جدید موبائل فونز لوٹے ہیں۔ ملزم نے دورانِ تفتیش اعترافِ جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ چھینے گئے فونز کو سستے داموں مختلف دکانداروں اور خریداروں کو فروخت کر کے رقم حاصل کرتا تھا۔تفتیش کا دائرہ کار اور مزید کارروائیاںگڈاپ پولیس نے ملزم بابر کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے۔ ایس ایس پی گڈاپ نے میڈیا کو بتایا کہ ملزم کے دیگر سہولت کاروں اور مسروقہ فونز خریدنے والے نیٹ ورک کی نشاندہی کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں تاکہ اس گروہ کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔پولیس انتظامیہ نے شہریوں اور بالخصوص خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر نوکریوں کے نام پر ہونے والے فراڈ سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی غیر مصدقہ شخص یا ادارے پر اپنے قیمتی سامان کا بھروسہ نہ کریں۔ پولیس نے تمام متاثرہ لڑکیوں سے بھی رابطہ کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ قانون کے مطابق ان کے فونز واپس کروائے جا سکیں۔