ایران پر حملے کا فیصلہ

ایران پر حملے کا فیصلہ: صدر ٹرمپ کی جانب سے کوئی اقدام نہیں

اسلام آباد: ایران پر حملے کا فیصلہ ابھی تک صدر ٹرمپ کی جانب سے نہیں ہوا، یہ بات امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے میں اب بھی سفارت کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور اس حوالے سے کوئی فوری اقدام نہیں کیا گیا۔

مارکو روبیو نے مزید وضاحت کی کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ایران کے ساتھ بات چیت کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں امریکہ کی کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے۔

یہ بیان اس وقت آیا ہے جب عالمی سطح پر ایران کے حوالے سے تناؤ بڑھ رہا ہے۔ روبیو نے واضح کیا کہ امریکہ کی حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعض اوقات سخت فیصلے کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے، لیکن موجودہ وقت میں سفارت کاری ہی بہترین راستہ ہے۔

آخر میں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ایران کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے کوششیں جاری رہیں گی، اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کا فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔