لاہور: پاکستان کے سینئر اور معروف اداکار خواجہ سلیم کا دعویٰ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ بالی ووڈ کے دو عظیم سپر سٹارز امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان نے اپنی فلموں میں ان کی اداکاری کے مخصوص انداز کی نقل کی ہے۔ اس انکشاف کے بعد شوبز حلقوں اور سوشل میڈیا پر ایک نیا مباحثہ چھڑ گیا ہے۔
پاکستان ٹیلی ویژن اور تھیٹر کے معروف اداکار خواجہ سلیم نے ایک نجی پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے اپنے دور عروج کی یادیں تازہ کیں اور اپنے فنی سفر کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے مخصوص بول چال اور باڈی لینگویج کو سرحد پار بھی بے حد پسند کیا گیا اور بعد میں ہندوستانی سینما کے بڑے ناموں نے اسے اختیار کیا۔
خواجہ سلیم کی فنکارانہ زندگی اور اداکاری کا منفرد انداز
خواجہ سلیم کا شمار پاکستان کے ان باصلاحیت فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اسٹیج ڈراموں اور ٹیلی ویژن سیریلز میں اپنے منفرد جملوں اور مزاحیہ ادائیں پیش کر کے کروڑوں مداحوں کے دلوں پر حکومت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا اداکاری کا انداز مکمل طور پر قدرتی اور ان کی اپنی تخلیق تھا۔
انہوں نے گفتگو کے دوران مخصوص مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ شاہ رخ خان نے اپنی ابتدائی فلموں کے متعدد مناظر میں ان کے بولنے کے ڈھنگ اور چہرے کے تاثرات کو بعینہ اپنایا۔ خواجہ سلیم کے مطابق، ان کے کرداروں کی باڈی لینگویج اتنی منفرد تھی کہ ہندوستانی ہدایت کار بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔
بالی ووڈ اداکاروں پر نقل کرنے کا الزام اور شوبز ردعمل
خواجہ سلیم کا دعویٰ ہے کہ امیتابھ بچن نے بھی اپنی کچھ بعد میں آنے والی فلموں میں سنجیدہ کے ساتھ مزاحیہ مکالموں کی ادائیگی کے دوران ان کے انداز کی تقلید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور جب کوئی فنکار اچھا کام کرتا ہے تو دنیا بھر کے دیگر اداکار اس سے متاثر ہوتے ہیں۔
اس حوالے سے شوبز انڈسٹری کے ناقدین اور مداحوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بعض سینئر فنکاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی فنکاروں کی صلاحیتوں اور تخلیقی کام کو ماضی میں بھی بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے اور ہندوستانی سینما ہمیشہ سے پاکستانی ڈراموں اور فنکاروں سے متاثر رہا ہے۔
پاکستان ڈراما انڈسٹری کی تاریخ میں خواجہ سلیم کا مقام
خواجہ سلیم نے دہائیوں تک پاکستان ٹیلی ویژن اور اسٹیج پر اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے یادگار ڈراموں اور اسٹیج شوز کو آج بھی ڈراما شائقین بڑے ذوق و شوق سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ ڈراما انڈسٹری کی ترقی کے لیے کام کیا اور نئے آنے والے اداکاروں کے لیے مشعل راہ بنے۔
پوڈکاسٹ کے اختتام پر سینئر اداکار نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ ان کے کام کو سرحد پار کے سُپر سٹارز نے بھی سراہا اور اسے اپنے انداز میں ڈھالا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک فنکار کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے کام کو دنیا کے سب سے بڑے فلمی برانڈز نے اپنے لیے مشعل راہ بنایا۔
خواجہ سلیم کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے پرانے ڈراموں کے کلپس اور بالی ووڈ فلموں کے مناظر کا موازنہ کیا جا رہا ہے، جس میں شائقین کرکٹ اور فلم دونوں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ خبر پاکستان سمیت دنیا بھر کے شوبز حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔