اسلام آباد: ایران پر ایٹمی حملے کی تیاری کے حوالے سے امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے ایک تہلکہ خیز دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مڈٹرم الیکشن کے بعد امریکہ ایران کے خلاف ایٹمی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ دعویٰ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک سنسنی خیز پوسٹ میں کیا ہے۔
کارلسن نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ یہ اقدام اس وقت کیا جا سکتا ہے جب امریکہ کی داخلی سیاست میں تبدیلیاں آئیں گی۔ ان کے مطابق، یہ ممکنہ حملہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف ایک سخت جواب ہو سکتا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر ایران کی ایٹمی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ کئی ممالک ایران کی ایٹمی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے سخت اقدامات کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔
کارلسن کے اس دعوے نے عالمی برادری میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ واقعی ایسا اقدام کرتا ہے تو اس کے نتائج عالمی امن کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل کا امکان ہے، جو کہ خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔
اس تمام صورتحال کے پیش نظر، عالمی برادری کو اس معاملے پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔