خیبرپختونخوا پولیس

خیبرپختونخوا پولیس کو 12 اضلاع کے لیے 40 ارب روپے کی شدید ضرورت ہے

پشاور: خیبرپختونخوا پولیس کے سربراہ ذوالفقار حمید نے انکشاف کیا ہے کہ صوبے کے 12 اہم اور حساس اضلاع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو برقرار رکھنے اور سیکیورٹی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے 30 سے 40 ارب روپے کی ایمرجنسی گرانٹ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان فنڈز کی بروقت فراہمی سے پولیس کی کارکردگی اور انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

سیکیورٹی چیلنجز اور مالیاتی ضروریات

آئی جی پولیس ذوالفقار حمید کا کہنا تھا کہ فورس کو جدید ترین ہتھیاروں ، بکتر بند گاڑیوں ، اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے لیے خاطر خواہ فنڈز درکار ہیں۔ ضم شدہ اضلاع سمیت دیگر حساس علاقوں میں سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی نہایت ضروری ہے ، تاکہ اہلکار اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کر سکیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ خیبرپختونخوا پولیس طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن فورس کا کردار ادا کر رہی ہے اور اہلکاروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں آپریشنل صلاحیتوں کو مزید رپوش کرنے کے لیے مالی معاونت ناگزیر ہو چکی ہے ، جس کے لیے حکومت سے رجوع کیا جا رہا ہے۔

حکومت سے فنڈز کے حصول کی کوششیں

پولیس حکام کے مطابق اس ضمن میں صوبائی اور وفاقی حکومت کو تفصیلی مالیاتی سفارشات ارسال کر دی گئی ہیں۔ خیبرپختونخوا پولیس کو قوی امید ہے کہ متعلقہ حکام معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے فوری طور پر مطلوبہ فنڈز جاری کریں گے تاکہ انسدادِ دہشت گردی اور امن و امان کے اقدامات میں کسی قسم کی التوا نہ ہو۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فورس کی ضروریات کے حوالے سے 12 اضلاع کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں سیکیورٹی انفراسٹرکچر کی بحالی اور تھانوں کی جدید کاری کا کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے واضح کیا کہ فورس کی پیشہ ورانہ تربیت اور جدید ترین ساز و سامان کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

عوام کے تحفظ کا پختہ عزم

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تر مالی چیلنجز اور محدود وسائل کے باوجود پولیس فورس صوبے کے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ اگر صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے مطلوبہ مالیاتی پیکیج جاری کر دیا جاتا ہے تو سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال میں مزید پائیدار بہتری رونما ہوگی۔