ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر: کے پی میں انسداد دہشت گردی میں کوئی رکاوٹ نہیں

اسلام آباد: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی کی روزمرہ کارروائیوں میں حائل تمام تر سہولت کاروں اور رکاوٹوں کو دور کر دیا گیا ہے۔ مسلح افواج ملک سے دہشت گردی کے ناطے کو ہمیشہ کے لیے توڑنے کے لیے پُرعزم ہیں اور کسی بھی شاہراہ یا خطے کو شرپسند عناصر کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں اہم پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر انٹیلی جنس معلومات پر مبنی کامیاب کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ان آپریشنز کے نتیجے میں متعدد خطرناک دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا ہے جبکہ ان کے ٹھکانوں کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ ریاست کی اولین ترجیح شہریوں کے جان و مال کی حفاظت اور قانون کی حاکمیت کو یقینی بنانا ہے۔

سیکیورٹی چیلنجز اور مسلح افواج کا دوٹوک موقف

صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں کسی بھی کالعدم تنظیم یا اس کے سہولت کاروں کو اب سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صوبے میں آپریشنز کے دوران جن عناصر نے ریاستی اقدامات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تھی، ان کے خلاف بھی قانونی اور عسکری سطح پر سخت اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ فورسز کا ایک ہی ہدف ہے کہ ملک کے ہر کونے کو امن کا گہوارہ بنایا جائے۔

عسکری ترجمان نے بتایا کہ پاک فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت دہشت گردوں کے خلاف میدانِ عمل میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی اور قوم کی حمایت سے ارضِ پاک کو فتنہ الخوارج سے پاک کیا جائے گا۔ ہماری تزویراتی یکسوئی میں کوئی تذبذب نہیں ہے اور تمام فیصلہ سازی قومی سلامتی کی ضروریات کے عین مطابق ہو رہی ہے۔

سرحدی سیکیورٹی اور بیرونی سہولت کاری کا خاتمہ

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بارڈر مینجمنٹ کو مزید سخت اور مؤثر بنا دیا گیا ہے تاکہ غیر قانونی نقل و حرکت اور سرحد پار سے ہونے والی مداخلا ت کا تدارک کیا جا سکے۔ بین الاقوامی سرحدوں کی حفاظت اور اندرونی استحکام کے لیے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے، جس کے مثبت نتائج کیمرے کے سامنے اور میدانِ عمل میں واضح نظر آ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار امن کے قیام کے لیے مقامی آبادی کی حمایت بے حد اہمیت رکھتی ہے، اور خیبر پختونخوا کے غیرت مند عوام نے ہمیشہ سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دشمنوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا ہے۔ صوبائی حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر بحالی اور ترقیاتی منصوبوں کو بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ علاقائی عوام کو فوری اور پائیدار سہولیات میسر آ سکیں۔

عزم استحکام اور قومی یکجہتی کی ضرورت

ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ایک گروہ یا ادارے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔ پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جو لوگ ریاست کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے، انہیں قانون کے کٹھہرے میں لایا جائے گا۔ مسلح افواج دشمن کے ہر منصوبے سے ناپید واقف ہیں اور ہر چیلنج سے نمٹنے کی کامل صلاحیت رکھتی ہیں۔