لاہور: پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے انکشاف کیا ہے کہ لاہور میں اسموگ اور فضائی آلودگی کی بڑھتی ہوئی شرح کی بنیادی وجہ شہر میں چلنے والی کمزور ہوائیں اور سرحد پار بھارت سے آنے والی آلودہ ہوائیں ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ہمسایہ ملک سے آنے والی ہواؤں کا رخ اور رفتار لاہور کے ایئر کوالٹی انڈیکس پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے ، جس کے باعث فضا میں مضر صحت ذرات کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ لاہور کے فضائی معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ماحولیاتی ادارے اور انتظامیہ شب و روز متحرک ہیں۔ تاہم ، جب بھارت کے سرحدی علاقوں میں فصلوں کی باقیات جلائی جاتی ہیں تو وہاں سے اٹھنے والا شدید دھواں ہوائی راستوں کے ذریعے پاکستان کے سرحدی اضلاع اور بالخصوص صوبائی دارالحکومت لاہور میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر ہوا کی کم رفتار اس آلودگی کو فضا میں جمائے رکھتی ہے ، جس سے شہر میں اسموگ کی شدت بڑھ جاتی ہے۔
مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک ہمہ جہت انسداد اسموگ پلان تشکیل دیا ہے۔ صوبے بھر میں ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے صنعتی یونٹس ، اینٹوں کے بھٹوں اور دھواں دینے والی گاڑیوں کے خلاف سخت بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ انتظامیہ نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ غیر معیاری ایندھن استعمال کرنے والی فیکٹریوں کو فوری سیل کر دیا جائے اور سڑکوں پر دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔
سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ لاہور میں اسموگ کی روک تھام صرف انتظامی کارروائیوں سے ہی ممکن نہیں بلکہ اس میں شہریوں کا تعاون بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کھلے عام کوڑا کرکٹ اور فضلہ جلانے سے مکمل طور پر پرہیز کریں اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے گرین ٹرانسپورٹ اور عوامی سواریوں کے استعمال کو ترجیح دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ درخت لگانا اور سبزہ بڑھانا اس دائمی مسئلے کا پائیدار حل ہے۔
انہوں نے بھارتی حکام کے ساتھ مشترکہ ماحولیاتی حکمت عملی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فضا اور ہوا کسی کی سرحد کی پابند نہیں ہوتیں ، اس لیے جب تک دونوں جانب سے فصلوں کی باقیات جلانے پر مکمل پابندی اور جدید تکنیک کا استعمال یقینی نہیں بنایا جائے گا ، اس وقت تک پورے خطے کا فضائی معیار متاثر ہوتا رہے گا۔ پنجاب حکومت اس حوالے سے سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر بھی بات چیت کا جائزہ لے رہی ہے۔
محکمہ موسمیات اور ماحولیات کی رپورٹس کے مطابق آنے والے چند روز کے دوران ہوائیں مزید سست رہنے کا امکان ہے ، جس کے باعث فضا کی حالت مکدر رہ سکتی ہے۔ مریم اورنگزیب نے شہریوں بالخصوص بچوں ، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور باہر جاتے وقت ماسک کا استعمال لازمی بنائیں۔ حکومت کی جانب سے اسکولوں اور عوامی مقامات پر بھی احتیاطی تدابیر کی ہدایت کی گئی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کا چھڑکاؤ بھی تیز کر دیا گیا ہے تاکہ فضا میں تیرتے ہوئے گرد و غبار اور آلودہ ذرات کو نیچے بٹھایا جا سکے۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ محکمے الرٹ پر ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر ایئر کوالٹی انڈیکس مانیٹر کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو صحت مند ماحول کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اور ہنگامی اقدامات بروئے کار لائے جا سکیں۔