اسلام آباد: امریکا ایران پر بمباری دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس کی تصدیق امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے کی ہے۔ اس خبر نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے ممالک میں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو سے اس معاملے پر گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے ایران کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔
امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کی تیاری کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ ایران کی جانب سے جوہری پروگرام کی توسیع اور خطے میں اس کی مداخلت نے امریکا کو اس اقدام پر مجبور کیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے یا پھر اقتصادی پابندیوں کا راستہ اختیار کیا جائے۔
اس صورتحال نے عالمی برادری میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ کئی ممالک نے امریکا کی اس ممکنہ کارروائی کی مخالفت کی ہے، جبکہ کچھ نے اسے ایران کے خلاف ایک ضروری اقدام قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایران نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر امریکا نے کوئی بھی فوجی کارروائی کی تو اس کے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔
یہ صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری کی تو اس کے نتیجے میں ایک بڑی جنگ چھڑ سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔