اسلام آباد: جیو اکنامکس کی اہمیت پاکستان کے قومی مفادات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ اصطلاح عام طور پر کسی ملک کے سیاسی اہداف کے حصول کے لیے معاشی ذرائع کے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ سرد جنگ کے دور میں، اس کا استعمال میکیاولی انداز میں کیا جاتا تھا، جہاں معاشی دباؤ کے ذریعے حریفوں کے مقابلے میں قومی مفادات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جاتی تھی۔
سرد جنگ کے اختتام کے قریب، جیو اکنامکس کی تشریح میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ ایڈورڈ لٹواک نے 1990 میں اپنے مشہور مضمون ‘جیو پولیٹکس سے جیو اکنامکس کی جانب’ میں پیش گوئی کی تھی کہ تجارت کا منطقی انداز عسکری طریقوں کی جگہ لے لے گا۔ اس کے مطابق، فوجی چھاؤنیوں یا اڈوں کے مقابلے میں منڈیوں تک رسائی زیادہ اہمیت اختیار کر جائے گی۔
پاکستان کے لیے جیو اکنامکس کی اہمیت اس وقت بڑھ گئی ہے جب عالمی معیشت میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ ملک کو اپنے قومی مفادات کے فروغ کے لیے جدید تجارتی حکمت عملیوں کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت کا بھرپور فائدہ اٹھائے اور علاقائی تجارت کو فروغ دے۔
اس کے علاوہ، جیو اکنامکس کے ذریعے پاکستان کو عالمی سطح پر اپنی حیثیت کو مستحکم کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک اپنے معاشی وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرے اور عالمی منڈیوں میں اپنی موجودگی کو مضبوط کرے۔ اس طرح، پاکستان جیو اکنامکس کے ذریعے نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہم کھلاڑی بن سکتا ہے۔