اسلام آباد وفاقی حکومت نے ملک میں شفافیت کو فروغ دینے اور ملکی خزانے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے توشہ خانہ کے قواعد و ضوابط کو مزید سخت کرتے ہوئے نئے رولز باضابطہ طور پر نافذ کر دیے ہیں۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ توشہ خانہ منیجمنٹ اینڈ ریگولیشن رولز 2026 کے تحت ملنے والے تحائف کی وصولی اور خریدری کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کا مقصد اس پورے عمل کو زیادہ شفاف اور جوابدہ بنانا ہے
نئے قوانین کے نفاذ کے بعد اب کوئی بھی سرکاری شخصیت من مانے طریقوں سے قیمتی تحائف اپنے پاس نہیں رکھ سکے گی۔ ذرائع کے مطابق، نئی پالیسی میں تحائف کی مالیت کے تعین کے لیے آزادانہ اور شفاف نظام وضع کیا گیا ہے جبکہ تحائف کو اپنے پاس رکھنے کرنے کے تناسب میں بھی خاطر خواہ کمی لائی گئی ہے۔ حکومت کا یہ اقدام پچھلے کچھ عرصے سے توشہ خانہ کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات اور عوامی بحث کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں منظور کیے جانے والے ان نئے رولز کے تحت اب تحائف کی تفصیلات کو ایک مقررہ مدت کے اندر اندر عوام کے سامنے لانا بھی لازم ہوگا تاکہ شفافیت کے اعلیٰ ترین معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔ سیاسی و قانونی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس سے قومی وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے گا اور اداروں پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔