اسلام آباد:بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک اہم پیش رفت کے دوران، امریکہ کی شدید مخالفت اور تمام تر سفارتی رکاوٹوں کے باوجود ایران کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی جنرل کمیٹی کا رکن منتخب کر لیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو عالمی سطح پر تہران کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جارہا ہے، جبکہ واشنگٹن کے حلقوں میں اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، جنرل کمیٹی کی رکنیت کے لیے ہونے والی رائے شماری میں بیشتر رکن ممالک نے آزادانہ مؤقف اپناتے ہوئے ایران کے حق میں ووٹ دیا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عالمی برادری میں امریکہ کا اثر و رسوخ اب روایتی بالادستی کا شکار نہیں رہا۔
دوسری جانب، اس انتخاب کے نتائج سامنے آنے کے بعد امریکی محکمہ خارجہ اور وائٹ ہاؤس میں ہلچل مچ گئی ہے۔ امریکی حکام نے اس پیش رفت کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ ایران کو اس طرح کے بااثر عالمی اداروں میں کلیدی عہدے یا نمائندگی دینا عالمی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، اس لیے وہ اس نوعیت کے منصب کا کسی طور پر اہل نہیں ہے۔ تاہم، عالمی ایجنسی کے دیگر رکن ممالک نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے شفافیت اور اصولوں کو ترجیح دی۔
ادھر اقوام متحدہ اور ایٹمی توانائی ایجنسی کے صدر دفاتر ویانا میں مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ الیکشن عالمی سفارت کاری میں ابھرتے ہوئے نئے طاقت کے توازن کا عکس ہے۔ ایران کی اس کامیابی سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ترقی پذیر اور آزاد خیال ممالک اب عالمی اداروں میں امریکہ یا دیگر مغربی طاقتوں کے تسلط کو اندھا دھند تسلیم کرنے کے بجائے اپنی خودمختار خارجہ پالیسی کے تحت فیصلے کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تقرری سے جہاں تہران کو بین الاقوامی سطح پر اپنا مؤقف مزید مؤثر انداز میں پیش کرنے کا موقع ملے گا، وہیں آئی اے ای اے کے اندر بھی نئی سفارتی کشمکش جنم لے سکتی ہے جس کے اثرات مستقبل کے فیصلوں پر بھی مرتب ہوں گے۔