کال سینٹرز کے ذریعے 172 ارب روپے کی مبینہ ڈیجیٹل ڈکیتی، ایف آئی اے کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

کال سینٹرز کے ذریعے 172 ارب روپے کی مبینہ ڈیجیٹل ڈکیتی اور منی لانڈرنگ کے اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، جس میں بعض اعلیٰ سرکاری افسران کے ملوث ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہےتفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں کال سینٹرز کے ذریعے ہونے والی مبینہ ڈیجیٹل ڈکیتی اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لیے 9 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمر ارسلان کریں گے، جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر لا محمد افضل بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔ٹیم کے دیگر ارکان میں وقاص زمرد، انسپکٹر عثمان افتخار، وجاہت سلطان، طلعت نسیم، سب انسپکٹر تابش جاوید، لیاقت علی اور دانش سرفراز شامل ہیں۔ایف آئی اے کی تشکیل کردہ خصوصی ٹیم مبینہ اربوں روپے کے اسکینڈل کی مکمل تحقیقات کرے گی اور اپنی پیش رفت سے متعلق رپورٹ ہر ہفتے ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد کو پیش کرنے کی پابند ہوگی۔
تحقیقات کے دوران مبینہ مالی بے ضابطگیوں، منی لانڈرنگ اور کال سینٹرز کے ذریعے ہونے والی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔