اسلام آباد: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو اسلامی دنیا کے لیے ایک طاقتور اور تاریخی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کےروشن مستقبل کی نوید ثابت ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے دوررس اور مثبت اثرات نہ صرف مسلم امہ کی سلامتی ہوں گے بلکہ یہ عالمی سطح پر بھی اتحاد کی ایک مضبوط مثال قائم کرے گا۔ ترک صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا دست و بازو بننا اسلامی اقدار کا بنیادی تقاضا ہے اور ترکیہ اس پلیٹ فارم کو مزید فعال بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ترک صدر نے یہ اہم ترین خیالات ایک اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کے دوران ظاہر کیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی جیو پولیٹیکل صورتحال میں مسلم ممالک کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔ صدر اردوان نے کہا کہ مکہ معاہدہ محض کاغذی کارروائی نہیں ہے بلکہ یہ امت مسلمہ کے مشترکہ دفاع اور سلامتی کے لیے ایک عملی قدم ہے، جس کے ذریعے بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاہدے سے خطے میں پائیدار امن کے قیام میں مدد ملے گی اور تمام برادر ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر سکیں گے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ترک صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسلم دنیا کو اندرونی و بیرونی نوعیت کے متعدد سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر علاقائی پلیٹ فارمز پر انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس اہم پیش رفت کے بعد مسلم ممالک کے مابین دفاعی صنعت، انٹیلی جنس شیئرنگ اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی، جو پوری امت کے مفاد میں ہیں۔