یورپ کے ترقی یافتہ ملک ناروے میں ٹیکنالوجی جائنٹ میٹا اور مشہور برانڈ رے بن کے اشتراک سے تیار کردہ اسمارٹ گلاسز کے ذریعے خواتین کی خفیہ ویڈیوز بنانے اور ان کی ذاتی زندگی میں مداخلت کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید عوامی اور سماجی ردعمل سامنے آیا ہے، جس کے بعد ان جدید آلات پر فوری پابندی عائد کرنے کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔
سال 2025 میں مارکیٹ میں متعارف کرائے جانے والے ان اسمارٹ گلاسز میں کیمرے اور ریکارڈنگ کی جدید ترین صلاحیتیں موجود ہیں، جن کا بظاہر مقصد روزمرہ کے معمولات کو آسان بنانا تھا، تاہم ان کا منفی اور غیر قانونی استعمال اب سنگین نوعیت کے پرائیویسی مسائل کو جنم دے رہا ہے۔ خاص طور پر خواتین کو عوامی مقامات پر نشانہ بنانے اور ان کی رضامندی کے بغیر ویڈیوز شوٹ کرنے کے اسکینڈلز نے سکیورٹی اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
نارویجن حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس ٹیکنالوجی کو شہریوں بالخصوص خواتین کی ذاتی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسمارٹ چشموں میں موجود خفیہ ریکارڈنگ کے فیچرز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے تاحال کوئی مؤثر قوانین موجود نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے بے لگام استعمال نے ڈیجیٹل دور میں سکیورٹی کے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔
اس سنگین صورتحال کے پیش نظر یورپی ممالک میں ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کو مزید سخت کرنے اور ایسی سمارٹ ڈیوائسز کی خرید و فروخت پر کڑی نگرانی رکھنے کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر بروقت سخت اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ٹیکنالوجی کا یہ نیا روپ انسانی وقار اور پرائیویسی کے بنیادی اصولوں کو پامال کرتا رہے گا۔