کراچی:صوبے بھر میں متوقع طوفانی بارشوں اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومتِ سندھ نے بروقت اور سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے تمام بلدیاتی اداروں میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت منعقدہ ایک ہنگامی اجلاس میں مون سون کے نئے سلسلے اور اس سے جڑے ممکنہ خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
اجلاس کے دوران وزیر بلدیات نے واضح کیا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت اولین ترجیح ہے، اور اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کراچی سمیت سندھ بھر کے تمام چھوٹے و بڑے میونسپل اداروں، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن، اور ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز (DMCs) کے افسران و عملے کی چھٹیاں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ کسی بھی ناگوار صورتحال میں فوری امدادی کارروائیاں عمل میں لائی جا سکیں۔
صوبائی انتظامیہ کی جانب سے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نشیب علاقوں سے بارشی پانی کی نکاسی کے لیے تمام ہیوی پمپس، جنریٹرز اور مشینری کو پہلے سے فعال حالت میں رکھیں تاکہ سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں پانی کے جمع ہونے کے تناسب کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ، کے الیکٹرک اور دیگر یوٹیلیٹی سروسز کے اداروں کے ساتھ بھی قریبی رابطہ رکھنے پر زور دیا گیا ہے تاکہ بجلی کے بریک ڈاؤن یا کسی حادثے کی صورت میں فوری رسپانس یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق آنے والے دنوں میں صوبے کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارشیں متوقع ہیں۔ صوبائی حکومت نے شہریوں بالخصوص موٹر سائیکل سواروں اور بچوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کھلے مین ہولز، کمزور عمارتوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کی مدد کے لیے ایک خصوصی ایمرجنسی کنٹرول روم بھی قائم کر دیا گیا ہے جو چوبیس گھنٹے فعال رہے گا۔