واشنگٹن: امریکہ کے نو منتخب نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک اہم اور ہوشربا انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران تنازعہ بہت جلد ایک نئے، غیر متوقع اور انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہونے والا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ان کا یہ بیان ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی تمام سفارتی کوششیں جمود کا شکار ہیں اور عسکری محاذ پر کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر پیش رفت یا تصادم کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جے ڈی وینس کے اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچا دی ہے اور سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ موجودہ حالات میں مستقبل کی قطعی پیشگوئی کرنا قبل از وقت ہوگا اور نہ ہی حتمی نتائج کا مکمل دعویٰ کیا جا سکتا ہے، تاہم وہ اس بات پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اختیار کی جانے والی خارجہ پالیسیاں اور عسکری حکمت عملی بالکل درست سمت میں گامزن ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ پیچیدہ عالمی منظرنامے میں واشنگٹن کو انتہائی محتاط، مدبرانہ اور فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے علاقائی بحران سے کامیاب�� کے ساتھ نمٹا جا سکے اور امریکی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
سیاسی تجزیہ کاروں اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، جے ڈی وینس کا یہ بیان انتہائی معنی خیز ہے اور یہ اس بات کا غماز ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں امریکی خارجہ پالیسی میں ایران کے حوالے سے مزید سخت گیر مؤقف اپنایا جا سکتا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ روایتی انداز مشرق وسطیٰ کے تنازعات کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کرے گا۔ دوسری جانب، اس بیان کے سامنے آنے کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور خطے کی مجموعی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس پر اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری کی نگاہیں پوری طرح مرکوز ہیں۔