پشاور:خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں روایتی پشتو موسیقی اور جدید ٹیکنالوجی کا انوکھا امتزاج دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں مقامی موسیقاروں اور گلوکاروں نے اپنے نئے گانوں کی تیاری میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے بھرپور استفادہ شروع کر دیا ہے۔ پشاور کے ایک مقامی سٹوڈیو میں پشتو کے معروف موسيقار ارشاد عرف ارشو بنگش اور ابھرتے ہوئے گلوکار ارسلان شاہ روایتی دُھنوں کو جدید ترین ڈیجیٹل ٹولز کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ رجحان نہ صرف پشاور کی ثقافتی موسیقی کو ایک نیا رنگ دے رہا ہے بلکہ علاقائی فنکاروں کے لیے بین الاقوامی معیار کے گانے کم لاگت میں تیار کرنے کے نئے دروازے بھی کھول رہا ہے۔
اس تخلیقی عمل کے حوالے سے موسیقار ارشو بنگش نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گانے کی بنیادی دھن گلوکار ارسلان شاہ نے ترتیب دی ہے جبکہ اس کی کمپوزیشن کا باقی تمام حصہ اور آخری مراحل میں مکسنگ کا کام مصنوعی ذہانت کی مدد سے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ آپ اپنی پسند کی کوئی بھی دھن، بیٹس یا آڈیو سٹیمز متعلقہ اے آئی ایپلیکیشن کو فراہم کرتے ہیں، جو روایتی طریقوں کے مقابلے میں انتہائی قلیل وقت میں انتہائی نفاست کے ساتھ مکسنگ مکمل کر کے دیدیتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے آڈیو پروڈکشن کے میدان میں ایک خاموش انقلاب برپا کر دیا ہے جس کے مثبت نتائج اب پشاور کے سٹوڈیوز میں بھی واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
موسیقار ارشو نے ماضی اور حال کے تقابلی جائزے پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید بتایا کہ آج سے محض سات آٹھ سال قبل روایتی یا اینالاگ طریقوں سے گانوں کی مکسنگ اور ماسٹرنگ پر ایک لاکھ روپے تک کے اخراجات آتے تھے، اور ایک اکیلے گانے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں تین سے چار ماہ کا طویل عرصہ لگ جاتا تھا۔ اس کے برعکس، اب جدید مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر کی بدولت یہی پیچیدہ مراحل اب ہفتوں کے بجائے منٹوں میں طے ہو رہے ہیں۔ اگر کوئی فنکار مکمل طور پر اے آئی کی مدد سے گانا تیار کرنا چاہے تو یہ پورا عمل اب محض دو سے تین منٹ میں ممکن ہو چکا ہے، جس نے نئے اور نادار فنکاروں کے لیے مالی مشکلات کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔