ات کے مطابق، اس سے قبل بھی امریکی انتظامیہ اسرائیل کو اربوں ڈالر کے سالانہ دفاعی پیکیجز اور فوجی امداد فراہم کرتی رہی ہے، تاہم موجودہ دفاعی معاہدہ ہتھیاروں کی نوعیت اور مالی حجم کے اعتبار سے انتہائی حساس تصور کیا جا رہا ہے۔ اس دفاعی معاہدے کے تحت تیار کیے جانے والے بم اور جنگی ٹیکنالوجی امریکی دفاعی انڈسٹری کی نامور کمپنیوں بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن کے تعاون سے فراہم کی جائے گی۔ ملٹری تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے اس اہم وقت پر اتنی بڑی فوجی ترسیل کی منظوری سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھے گا، جبکہ امریکی کانگریس میں موجود بعض ترقی پسند ارکان کی طرف سے اس معاہدے کی شدید مخالفت کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی امور کے ماہرین اور دنیا بھر کے امن پسند حلقوں نے امریکی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے خطے میں امن و استحکام کی تمام سفارتی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوں گی۔ پاکستان سمیت متعدد اسلامی ممالک نے بھی مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے اور عام شہریوں پر بمباری کے خطرات کے پیش نظر امریکی اقدام پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اگر امریکی کانگریس نے قانونی مقررہ مدت کے اندر اس پر کوئی اعتراض یا رکاوٹ نہ ڈالی تو یہ اسلحہ اگلے چند ماہ کے اندر اسرائیل دفاعی فورسز کے حوالے کر دیا جائے گا۔