اسلام آباد میں حکومت نے بجلی کے بلوں پر سبسڈی کی فراہمی کو شفاف بنانے اور اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے نیا ڈیجیٹل “QR کوڈ سسٹم” متعارف کروا دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی “کراس سبسڈی پروگرام 2026” کے تحت اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ حکومتی ریلیف صرف مستحق اور اہل صارفین تک ہی پہنچے۔
پاور ڈویژن کے حکام کے مطابق اس سسٹم کے تحت ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے بلوں پر خصوصی QR کوڈ شامل کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام کا مقصد ایک ہی گھر میں متعدد میٹرز کے ذریعے سبسڈی حاصل کرنے جیسے غلط استعمال کی روک تھام ہے اور ریلیف کو صرف کم آمدنی والے طبقے تک محدود رکھنا ہے۔
رجسٹریشن کا طریقہ کار
صارفین اپنے بجلی کے بل پر موجود QR کوڈ کو اسکین کریں گے، جس کے ذریعے وہ سرکاری پورٹل پر منتقل ہوں گے۔ وہاں 14 ہندسوں کا ریفرنس نمبر اور شناختی کارڈ کی تفصیلات درج کرنا ہوں گی، جبکہ تصدیق کے لیے موبائل پر OTP بھیجا جائے گا۔
تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد رجسٹریشن مکمل ہو جائے گی۔
حکام نے ہدایت کی ہے کہ صارفین اس بات کو یقینی بنائیں کہ بجلی کے بل پر درج نام اور شناختی کارڈ کا نام ایک جیسا ہو تاکہ کسی بھی مسئلے سے بچا جا سکے۔
سہولت مراکز
جن افراد کے پاس اسمارٹ فون نہیں ہیں یا جو اس نظام سے واقف نہیں، ان کے لیے ڈپٹی کمشنر دفاتر اور یونین کونسل کی سطح پر فیسیلیٹیشن ڈیسک اور ہیلپ کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ QR کوڈ اسکین نہ کرنے کی صورت میں صارفین براہِ راست سرکاری پورٹل پر جا کر بھی اپنی رجسٹریشن مکمل کر سکتے ہیں۔
پاور ڈویژن کے مطابق یہ نظام سبسڈی کی تقسیم میں شفافیت، بہتری اور مستحق خاندانوں تک براہِ راست ریلیف پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔