اسلام آباد وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات اور امورِ خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کسی اور صوبے کی جیل منتقل کرنے پر غور کر رہی ہےانہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کے مسلسل احتجاج نے شہریوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے، اسی وجہ سے قیدی نمبر 804 کو دوسری جیل منتقل کرنے کی تجویز زیرغور ہے اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی پر الزام لگایا کہ وہ ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے اور احتجاج کے نام پر انتشار پھیلایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نوجوانوں کو ورغلا رہی ہے اور ملکی وقار کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے انہوں نے افواج پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے مشکل حالات میں ایران اور قطر کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر ساتھ دیا وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر نے کہا کہ پی ٹی آئی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے مذہب کا استعمال کر رہی ہے انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں پچھلے 13 سال میں کوئی یونیورسٹی یا اسپتال تعمیر نہیں کیا گیا اور دو وزرا کی گاڑیاں منشیات کے مقدمات میں تھانوں میں بند ہیں اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کے سہولت کار کے طور پر سامنے آئی ہے اور بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے تمام دروازے بند ہیں انہوں نے کہا کہ 9 مئی اور 26 نومبر جیسے واقعات پی ٹی آئی کے حقیقی چہرے کی مثال ہیں، جبکہ پارٹی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت اور اسرائیل سے چلائے جا رہے ہیں۔