نواز شریف وزارت عظمیٰ کے خواہشمند نہیں صرف رہنمائی کر رہے ہیں رانا ثنااللہ

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے واضح کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف وزارت عظمیٰ سنبھالنے کا کوئی ارادہ یا خواہش نہیں رکھتے اور وہ صرف پارٹی اور حکومت دونوں کی رہنمائی کا کردار ادا کر رہے ہیں اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ نوازشریف وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ لینے کا نہ ارادہ رکھتے ہیں اور نہ ہی خواہش۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ شہبازشریف وزارتِ عظمیٰ کا منصب نوازشریف کے قدموں میں رکھنے کو تیار ہوں گے شرجیل میمن کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت یا وزیراعظم کی مدتِ کار سے متعلق ڈھائی سال والی بات بےبنیاد ہے۔ طے یہ ہوا تھا کہ جس جماعت کے نمبر زیادہ ہوں گے، وزیراعظم اسی کا ہوگا رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی حکومت کی ایک بڑی اتحادی جماعت ہے جبکہ پی ڈی ایم کی تشکیل کے بڑے داعی آصف علی زرداری تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت سازی کے وقت ن لیگ نے پیپلزپارٹی کو کابینہ میں 50 فیصد شمولیت کی پیشکش کی تھی، لیکن پیپلزپارٹی نے شکریہ کے ساتھ معذرت کرلیانہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف ملک کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں، اور تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کامیابی سے چل رہا ہے۔ ہم عوام کے سامنے جوابدہ ہیں اور گورننس بہتر کرنے کی مسلسل کوشش جاری ہے، جو کہ ایک مشکل کام ہےنوازشریف نے بھی یہی کہا کہ گورننس ایک چیلنجنگ ذمہ داری ہےملکی حالات پر بات کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے بتایا کہ 2017 اور 2018 میں ملک درست سمت میں لیکن 2018 میں کیے گئے “تجربے” نے اگلے چار سال ملک کو بحرانوں میں دھکیل دیا۔ پی ڈی ایم کا دور بھی مشکل تھا، موجودہ سال بھی چیلنجنگ رہا تاہم حالات پہلے سے بہتر ہیں اور مزید وقت اور محنت کی ضرورت ہےدہشت گردی اور افغان شہریوں سے متعلق گفتگو میں انہوں نے کہا کہ امریکا میں نیشنل گارڈز پر حملوں میں افغان شہری ملوث پائے گئے، جبکہ پاکستان میں بھی دہشت گردی کے بیشتر واقعات میں افغان شہریوں کی شمولیت سامنے آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کارروائی پر کچھ حلقے واویلا کرتے ہیں، لیکن دہشت گردی کا خمیازہ پاکستان کو بھگتنا پڑتا ہے۔