28ویں ترمیم اپریل سے پہلے آئے گی، اس کا بجٹ سے براہ راست تعلق ہے بیرسٹر عقیل ملک

وزیرِ مملکت قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم اپریل سے پہلے سامنے آ جائے گی اور اس کا براہ راست تعلق وفاقی بجٹ سے ہےاے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مکمل اتفاقِ رائے پیدا کر کے ہی 28ویں ترمیم لائی جائے گی۔ این ایف سی، آرٹیکل 140-اے اور دیگر اہم معاملات پر بھی بات ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق جب مکالمہ شروع ہوگا تو دو سے چار ماہ میں ترمیم تیار کر لی جائے گیبیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ 28ویں ترمیم کو بجٹ سے پہلے تیار کرنا ضروری ہے کیونکہ اس کا بجٹ سے براہ راست تعلق ہےانہوں نے مزید کہا کہ بلدیاتی قانون پر ہم نے ہمیشہ واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔ بلدیاتی نظام میں ترمیم ناگزیر ہے، اور مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ ان کا ذاتی خیال ہے کہ بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر نہیں ہونے چاہئیں۔ ایم کیو ایم کے ساتھ جو معاملات طے ہوئے ہیں وہ بھی بجٹ سے پہلے نمٹانا ضروری ہیںوزیرِ مملکت نے واضح کیا کہ ججز کا استعفیٰ دینا ان کا آئینی استحقاق ہے، مجھے نہیں لگتا کہ کوئی تحریک چلے گی۔ اس وقت ایسے آثار بھی نظر نہیں آ رہے۔ وفاقی آئینی عدالت قائم ہو چکی ہے اور آج اس نے تین فیصلے بھی دیے ہیں، جلد ہی مقدمات کا بیک لاگ کلیئر ہونا شروع ہو جائے گاان کا مزید کہنا تھا کہ جب سیاستدانوں کو دہری شہریت کی اجازت نہیں تو بیوروکریٹس کو بھی نہیں ہونی چاہیے، لیکن دہری شہریت کی تجویز پر ہماری بڑی اتحادی جماعت نے اتفاق نہیں کیا۔