کیف میں آذربائیجان کے سفارت خانے کو روسی میزائل سے نقصان، باکو کا شدید احتجاج روسی سفیر طلب

آذربائیجان نے کیف میں قائم اپنے سفارت خانے کو روسی اسکندر میزائل سے نقصان پہنچنے پر روس کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے اور روسی سفیر کو طلب کرلیا گیا ہےروئٹرز کے مطابق، آذربائیجان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ میزائل کے دھماکے سے سفارت خانے کی بیرونی دیوار کا بڑا حصہ تباہ ہوا اور سفارتی کمپاؤنڈ کو شدید نقصان پہنچا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہواوزارت کے ترجمان نے بتایا کہ سفارت خانہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ آذربائیجانی صدر الہام علییف نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، اور دونوں رہنماؤں نے اس حملے کی شدید مذمت کی۔ علییف نے اسے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیاوزارتِ خارجہ کے مطابق جنوری 2024 اور اگست 2025 میں بھی روسی فضائی حملے سفارت خانے کے نزدیک ہوئے تھے جن میں عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا جبکہ پہلا حملہ سفارت خانے کے قریب ایک بڑا گڑھا چھوڑ گیا تھامارچ 2022 میں آذربائیجان کا قونصل خانہ خارکیف میں ایک فضائی حملے میں متاثر ہوا تھا، جب کہ اسی سال اگست میں روسی ڈرون حملوں نے آذربائیجانی سرکاری کمپنی SOCAR کے اوڈیسا ریجن میں قائم آئل ڈپو کو نقصان پہنچایا تھا جس میں اسٹاف بھی زخمی ہوا تھاروسی سفیر کو طلب کرکے واضح طور پر کہا گیا کہ سفارتی تنصیبات پر ایسے حملے ناقابلِ قبول ہیں۔ آذربائیجان نے روس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرے اور تفصیلی وضاحت فراہم کرےخیال رہے کہ گزشتہ سال وسآذربائیجان تعلقات اس وقت شدید تناؤ کا شکار ہو گئے تھے جب روسی فضائی دفاع کی غلط فائرنگ سے ایک آذربائیجانی مسافر طیارہ تباہ ہو گیا تھا، جس میں 38 افراد ہلاک ہوئے۔ صدر پیوٹن نے اسے المناک حادثہ قرار دیتے ہوئے گزشتہ ماہ علییف سے ملاقات میں متاثرین کو معاوضہ دینے کا وعدہ بھی کیا تھا۔