میکسیکو میں جرائم کے خلاف آواز اٹھانے والے ایک میئر کے قتل کے بعد ملک بھر میں جین زی طرز کے شدید احتجاج پھوٹ پڑے ہیں۔ پچاس سے زائد شہروں میں عوام نے عدم تحفظ، بدعنوانی اور بڑھتی ہوئی لاقانونیت کے خلاف مظاہرے کیےرپورٹس کے مطابق جنریشن زی گروپ کی بڑی تعداد میکسیکو سٹی میں صدارتی محل کے سامنے جمع ہوئی، جہاں مظاہرین نے رکاوٹیں گرا دیں اور حکومت مخالف نعرے بازی کی۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ مظاہرین نے پتھراؤ کیا۔ شہر کا علاقہ میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہامیکسیکو سٹی حکام کے مطابق پرتشدد جھڑپوں میں 100 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے 40 کو اسپتال منتقل کرنا پڑا، جبکہ 20 شہری بھی زخمی ہوئے۔ پولیس نے 20 مشتعل افراد کو گرفتار کر لیایہ صورتحال اُس وقت پیدا ہوئی جب یکم نومبر کو مغربی ریاست میچواکان کے شہر یوروپان کے میئر کارلوس مینزو کو ایک عوامی تقریب دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ اُن کے قتل نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دیمظاہرین نے صدر کلاڈیا شن بام کی جماعت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ ’’کارلوس نہیں مرا، اُسے حکومت نے مارا ہے’’جنریشن زی میکسیکو نامی گروہ نے سوشل میڈیا پر اپنے منشور میں کہا ہے کہ وہ غیر جانبدار ہے اور اُس نوجوان نسل کی نمائندگی کرتا ہے جو تشدد، کرپشن اور اختیار کے غلط استعمال سے تنگ آ چکی ہےخیال رہے کہ جنریشن زی 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل کو کہا جاتا ہے اور دنیا بھر میں متعدد احتجاجی گروہ اس نام کو تبدیلی کی علامت کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔