ویٹی کن کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے درمیان ویٹی کن سٹی میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں غزہ کی صورتحال، انسانی امداد اور مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل پر تبادلہ خیال کیا یعرب میڈیا کے مطابق، یہ ملاقات جمعرات کے روز ویٹی کن میں ہوئی۔ اس موقع پر محمود عباس نے آنجہانی پوپ فرانسس کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور کہا میں پوپ فرانسس کے ان خیالات اور کردار کو کبھی نہیں بھول سکتا جو انہوں نے فلسطینی عوام کے لیے ظاہر کیویٹی کن کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ پوپ لیو اور فلسطینی صدر نے غزہ کی شہری آبادی کی فوری ضروریات، امدادی سامان کی فراہمی اور جنگ زدہ علاقے میں انسانی بحران پر تفصیلی بات چیت کی
محمود عباس کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب غزہ میں جنگ بندی کو ایک ماہ مکمل ہونے والا ہے۔ ذرائع کے مطابق، صدر عباس نے جولائی میں بھی پوپ سے ٹیلیفونک گفتگو کی تھی، تاہم اس بار وہ خود ویٹی کن پہنچے اور بالمشافہ ملاقات کیبات چیت کے دوران فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ غزہ کے عوام کو فوری اشیائے ضرورت فراہم کی جائیں اور دو ریاستی حل کو ہی تنازعِ فلسطین کے پائیدار امن کا واحد راستہ قرار دیایاد رہے کہ ویٹی کن سٹی نے 2015 میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا۔ محمود عباس اس سے قبل آنجہانی پوپ فرانسس سے متعدد بار ملاقات کر چکے ہیںرپورٹس کے مطابق، پوپ فرانسس نے اپنی وفات سے ایک ماہ قبل غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف سخت مؤقف اپنایا تھا، تاہم ان کے جانشین پوپ لیو نے قدرے محتاط رویہ اختیار کیاانہوں نے غزہ کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کی جبری نقل مکانی کی مذمت کی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ غزہ کے واقعات کو نسل کشی نہیں سمجھتے۔