سندھ ہائیکورٹ نے نیپرا کو کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف سے متعلق کسی بھی کارروائی سے روک دیا ہے اور فریقین سے 19 نومبر تک جواب طلب کرلیا۔تفصیلات کے مطابق کے الیکٹرک نے نیپرا کی جانب سے ٹیرف میں کمی کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔ عدالت نے نیپرا کو ہدایت دی کہ 19 نومبر تک کمپنی کے خلاف کوئی سخت اقدام نہ کیا جائے۔کے الیکٹرک کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے مؤقف اختیار کیا کہ نیپرا نے 20 اکتوبر کو ایسے فریق کی درخواست پر فیصلہ دیا جو مرکزی کیس کا حصہ ہی نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیپرا نے نظرِ ثانی درخواستیں مسترد کرنے کے باوجود ازخود کارروائی کرتے ہوئے ٹیرف 32 روپے فی یونٹ مقرر کردیا۔بیرسٹر فروغ نسیم نے عدالت کو بتایا کہ اگر وفاقی حکومت نے نئے ٹیرف کا نوٹیفکیشن جاری کردیا تو کے الیکٹرک کو شدید مالی نقصان ہوگا اور ممکن ہے کمپنی کو اپنے آپریشنز بند کرنا پڑیں۔کے الیکٹرک نے مؤقف اختیار کیا کہ نیپرا اپیلیٹ ٹریبونل غیر فعال ہونے کے باعث ٹیرف کے جبری نفاذ کی صورت میں کمپنی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔عدالت نے نیپرا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 19 نومبر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی۔