طورخم سرحد 20 روز بعد افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے کھول دی گئی

پاکستانی حکام نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے طورخم سرحدی گزرگاہ کو 20 روز بعد دوبارہ کھول دیا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق، سرحد کو فی الحال صرف افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے کھولا گیا ہے، جب کہ دو طرفہ تجارت اور عام آمد و رفت بدستور معطل رہے گی۔طورخم بارڈر کو چند ہفتے قبل افغانستان کی جانب سے سرحدی دراندازی کے واقعے کے بعد بند کیا گیا تھا۔ یہ سرحد دنیا کے مصروف ترین زمینی راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں روزانہ ہزاروں افراد اور تجارتی گاڑیاں آمد و رفت کرتی ہیں۔ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے حکام نے حالیہ مذاکرات میں طورخم گزرگاہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔21 اکتوبر کو پاکستانی سفارتی حکام نے بتایا تھا کہ اگر کوئی نیا تنازع پیدا نہ ہوا تو سرحد آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں کھول دی جائے گی۔حکام کے مطابق، اس سلسلے میں تمام انتظامی اور سیکیورٹی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔بارڈر پر کسٹم اور دیگر اداروں کے اہلکار اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں، جبکہ امپورٹ و ایکسپورٹ اسکینر دوبارہ نصب کر دیے گئے ہیں تاکہ مہاجرین کی واپسی کا عمل شفاف طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔