محکمہ ترقی نسواں سندھ حکومت نے ورکنگ ویمنز ڈے منایا۔ اس موقع پر خواتین کی اہمیت اور سماجی اور ثقافتی زندگی میں ان کی محنت کو پہچاننے اور اجاگر کرنے کے لیے مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام میں سندھ کے اعلیٰ سرکاری افسران، ماہر تعلیم اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ مختلف شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کی مہمان خصوصی محکمہ ترقی نسواں سندھ کی وزیر شاہینہ شیر علی تھیں جنہوں نے اپنے خطاب میں خواتین کی محنت، قربانی اور اہمیت کو سراہا۔ اس موقع پر شاہینہ شیر علی نے کہا کہ عورت بیٹی کے روپ میں پیدا ہوتی ہے تو اسے رحمت کہا جاتا یے جب وہ ماں بنتی ہے تو اسکے پیروں کے نیچے جنت رکھ دی جاتی ہے۔ یہ خواتیں ہی ہیں جو لیڈی ہیلتھ ورکر بنکر جب سخت گرمی یا سخت سردی میں لوگوں کے دروازے پر جاکر پولیو کے قطرے پلاتی ہے تاکہ ہماری نسل معذوری سے بچ سکے۔ محترمہ بینظیر بھٹو جان کے خطرے کے باوجود اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹی۔ ماں شھید ہوئ تو اب بیٹی آصفہ بھٹو انکی جگہ لیکر موجود ہے۔ ہم سب ملکر جب نیک نیتی سے کام کرتے تو رزلٹ آتا ہے ۔ ایوان میں جب کرشنہ کولھی بولتی ہے تو لگتا ہے کہ اقلیت کی خواتین موجود ہیں ۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ سندھ میں خواتین ہر شعبے میں اپنی محنت اور لگن سے اپنا مقام مضبوط کر رہی ہیں۔ سماجی اور معاشی ترقی میں ان کا کردار اہم ہے۔ سندھ حکومت خواتین کو ہر سطح پر مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ہر خاتون کو چاہئے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں ورنہ آپکی آواز بند کردی جائے گی۔ اس پروگرام میں ثقافتی فنون، کامیاب خواتین کے تجربات اور مختلف پرفارمنس پر توجہ مرکوز کی گئی، جس میں خواتین کے کیریئر اور پیشہ ورانہ سفر پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ خواتین کو مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی پر ایوارڈز اور سوانح عمری سے نوازا گیا۔ اس موقع پر ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی شازیہ عابد نے اپنے خطاب میں ادارے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ محکمہ شھید محترمہ بینظیر بھٹو کے خوابوں کی تعبیر ہے انھوں نے اپنی زندگی میں ہی وومن پولیس اسٹیشن اور لیڈی ہیلتھ ورکر کا محکمہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ محکمہ پورے ملک میں خواتین کی ہر طرح سے مدد اور انھیں تحفظ دیتی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے سندھ کے ہر گاؤں اور شہر میں خواتین کو موثر اور محفوظ ماحول میں کام کرنے کے لیے آگے لانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد سماجی بیداری پیدا کرنا، خواتین کی محنت کو پہچاننا اور انہیں آگے بڑھنے کی ترغیب دینا تھا۔ اس موقع پر پروفیسر خالدہ فریال عالمانی، میڈم بشریٰ، پشپا کماری، ولی محمد، دانش مھدی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔