سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کی دسویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ 16 دسمبر سال 2014 کو امن اور تعلیم کے دشمنوں نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا، دہشت گرد سکول کے عقبی راستے سے صبح 10 بجے کے قریب عمارت میں داخل ہوئے، اس وقت آٹھویں ،نویں اور دسویں جماعت کے طالب علم آڈیٹوریم میں تربیت میں مشغول تھے۔ 16 دسمبر 2014 پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا جب کالعدم تحریک طالبان کے چھ دہشت گردوں نے اے پی ایس پر بزدلانہ حملہ کرکے 132 طالب علموں اور عملے کے 17 افراد کو شہید کر دیا تھا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعطم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سانحہ اے پی ایس جیسے واقعات دہشت گردوں اور خوارج کا اصل چہرہ بے نقاب کرتے ہیں، پاکستانی قوم دہشت گردوں کو کبھی اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دے گی، یہ ایک ایسا دل سوز واقعہ تھا جس کی یاد ایک دہائی سے ہمارے دلوں کو مضطرب کر رہی ہے۔ دریں اثنا وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج جبکہ پاکستان کی تاریخ کے ایک ناقابل فراموش سانحے، ایک بہت بڑے نقصان کے 10 سال مکمل ہو رہے ہیں، ہمارا دل غم زدہ اور خون کے آنسو روتا ہے. یہ ایک ایسا دل سوز واقعہ تھا جس کی یاد ایک دہائی سے ہمارے دلوں کو مضطرب کر رہی ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ 16 دسمبر 2014 کو بزدل، بے رحم اور حیوانیت سے بھرپور دہشت گرد, آرمی پبلک اسکول پشاور کے احاطے میں گھس کر تباہی و بربادی کرتے ہوئے 144 معصوم جانوں کو ہم سے ہمیشہ کیلئے جدا کر گئے، اس حیوانیت کا شکار ہوکر شہید ہونے والوں میں سے اکثریت کم سن بچوں کی تھی جو کہ بہت ہی کم عمری میں ہمیں غمگین کرکے دنیا سے چلے گئے۔ ان کی زندگی، ان کے خواب، ان کی امیدیں، ان کا مستقبل ان سے چھین لیا گیا۔ دس برس بعد بھی سانحہ آرمی پبلک اسکول کا غم آج بھی تازہ ہے، شہید ہونے والے بچوں کی یادوں نے مختلف خاندانوں کو آپس میں جوڑ دیا، ایک شہید کے گھر میں اکٹھے ہو کر والدین اپنا غم ایک دوسرے کے ساتھ بانٹتے ہیں۔ پشاور کے تعلیمی اداروں میں آج تعزیتی اجتماعات ہوں گے، جن میں شہدا کے درجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔ آرمی پبلک اسکول سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جارہے ہیں۔ سانحہ اے پی ایس اور سقوط ڈھاکہ یاد میں آج لاہور اور جڑواں شہروں میں تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ گجرات اور سیالکوٹ میں بھی تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔