آزاد کشمیر حکومت نے ریلیوں اور جلوسوں پر پابندی کا متنازع صدارتی آرڈیننس واپس لے لیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدارتی آرڈیننس کے تحت بغیر اجازت اجتماعات پر پابندی تھی تاہم اب صدارتی آرڈیننس بھی واپس لے لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عوامی ایکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ 90 دن کے اندر دیگر 12 نکات پر مبنی چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں صدارتی آرڈیننس کے خلاف عوامی ایکشن کمیٹی اور وزارتی مذاکراتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ شروع کر دیا تھا۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے صدارتی آرڈیننس کے خلاف ہڑتال شروع کر دی ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر آزاد کشمیر میں صدارتی آرڈیننس کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں واضح رہے کہ آزاد کشمیر حکومت نے ایک ماہ قبل صدارتی آرڈیننس کے ذریعے احتجاجی جلسوں، جلوسوں اور مظاہروں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ 7 سال تک. 3 دسمبر کو آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے متنازع صدارتی آرڈیننس معطل کر دیا۔