شہید اللہ بخش سومرو (سيبس) یونیورسٹی آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیجز جامشورو میں 19ویں ڈگری شو (سالانہ تھیسس ڈسپلے/نمائش) کا انعقاد کیا گيا۔ ڈگری شو کا افتتاح صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے کیا۔ ان کے ہمراہ وائس چانسلر سيبس یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ارابیلا بھٹو بھی تھیں۔ نمائش میں پینٹنگز، مجسمے، فیبرک ڈیزائن، مٹی کے برتن، عمارات کے ماڈل و نقشے، اشتہاری تصورات اور بہت کچھ شامل تھا۔ کل 101 طلباء نے اپنے آرٹ ورک اور تھیسس پروجیکٹس نمائش کے ليئے پيش کيے، جس میں 37 آرکیٹیکچر سے، 27 فائن آرٹ سے، 21 ٹیکسٹائل ڈیزائن سے اور 19 کمیونیکیشن ڈیزائن کے طلباء شامل تهے۔ صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نمائش طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے جو انہیں مستقبل میں کاروباری شخصیت اور برسرِ روزگار بننے میں مدد دے گی۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کا آرٹ ورک نہ صرف طلبہ کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ قوم اور ملک کے بهتر تاثر کے لیے بھی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کا کام دیکھ کر احساس ہوا کہ آر ٹ کے شعبے میں کوئی کمی نہیں، جس شعبے میں بھی کمی تھی حکومت اس کی کمی کو پورا کر رہی ہے۔ صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں جام خان شورو نے کہا کہ پیپلز پارٹی پانی کے معاملے پر سنجیدہ ہے اور سندھ حکومت کی جانب سے سی سی آئی کو کئنالوں کے حوالے سے دو خط لکھے گئے ہیں اور ہم نے اس معاملے پر دوسروں سے پہلے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ وائس چانسلر سيبس یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ارابیلا بھٹو نے کہا کہ سيبس یونیورسٹی کا مقصد معاشرے میں امن، خوشحالی اور مثبتیت کو فروغ دینا ہے اور طلباء کا آرٹ ورک معاشرے میں امن اور رواداری سے متعلق پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس یونیورسٹی کی خوبصورتی آرٹ، ڈیزائن اور آرکیٹیکچر کے ذریعے تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ قریبی تعلق ہے جبکہ تخلیقی صلاحیت اور جدت ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ ڈاکٹر بھٹو نے مزید کہا کہ ہمارے معاشرے میں تخلیق اور جدت دونوں کے لیے سائنس کے ساتھ ساتھ آرٹ کی اہمیت حقیقت ہے اور آرٹ کے بغیر سائنس تاریک ہے، سائنس کے بغیر آرٹ خوفناک ہے۔ ڈگری شو کے دوران فائن آرٹس کے طلباء نے ان موضوعات پر پینٹنگز اور مجسمے دکھائے جیسے: گونگے اور بہرے کے لیے اشاروں کی زبان، قدرتی پتوں کے استعمال سے ذهنی سکون کے نمونے، ثقافتی شناخت اور لگاؤ، مادی تبدیلی، تاثر کی تہوں، نظم و ضبط اور افراتفری کے درمیان توازن، مستقبل کا مستقبل۔ ٹیکنيکل دنيا میں آر ٹ کا مستقبل، سندھی ریلی کا فخر، بار بار اسٹروک کے ذریعے تبدیلی، بات چيت و تقریر میں دشواری وغيره۔ کمیونیکیشن ڈیزائن کے طلباء نے اپنے خیالات پیش کیے جیسے: براہوئی زبان کی کہانی، کہانی کی قسم، نقطۂ وسعت، علامت نگاری بذریعہ آرائشی نسل، علی اور جادوئی کتب نما، فیصلہ سازی، فيصلا سازی، دائرہء آگاہی، خوف کا خاتمہ، ہواؤں کو پيغام، ناقص دن میں خواب دیکھنا، لامحدود مسودہ، افراد تفری وغيره۔ ٹیکسٹائل ڈیزائن کے طلبا نے یادوں کو ڈیزائن میں شامل کرنے کے موضوعات پر فیبرک ڈیزائن دکھائے، ميلاپ اور تعلق، کچھ بھی ہمیشہ کے لیے نہیں رہتا، خود شناسی زندگی، روایتی سندھی کڑھائی کو مغربی تجریدی انداز میں پيش کرنا، مکمل تصویر کا فقدان، نانی کا باغ، جہيز کے کپڑے، حقیقت سے دور، فطرت کی بازگشت، خام مال سے لے کر تیار ٹیکسٹائل، مہندی، ایکوا فوبیا پر قابو پانا وغيره۔ آرکیٹیکچر اینڈ پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کے طلباء نے روایت اور جدت کو ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک ترقی پسند لیکن ثقافتی طور پر جڑے ہوئے گاؤں کے ڈیزائن، گوادر میں عمانی طرز تعمیر کی بحالی، کراچی میں همعصری آرٹ گیلری، عوامی لائبریریوں کو متحرک کمیونٹی کے اجتماع کی جگہوں کے طور پر دوبارہ تصور کرنے، بائیو فولک تھیم ہاؤس، شہری میں توانائی کی بچت والی عمارتوں کے لیے غیر فعال کولنگ کی حکمت عملیوں کا انضمام، جنت کا باغ، سماجی اقتصادی ترقی کے لیے کھیلوں کے میدانوں میں تعمیراتی جدت: گوادر میں یوتھ فٹبال اکیڈمی، تربت میں ماحول دوست اسکول، زندگی کو بہتر بنانے کے لیے یونیورسل سهوليات کو بہتر بنانے اور دیگر کے بارے میں منفرد خیالات و ماڈلز پیش کیے۔ یہ نمائش 10 دسمبر 2024 تک جاری رہے گی۔