عالمی امور کے ماہرین نے کہا ہے کہ سوڈان میں مقامی حل کے ذریعے جمہوری طریقے سے اقتدار کی پرامن منتقلی ہو سکتی ہے اگر عالمی اور علاقائی طاقتوں اورخاص طور پر مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک کی عدم مداخلت کو یقینی بنایا جائے اورسوڈان کے باشعورعوام کو انتخاب کا حق دیا جائے۔ مقررین نے یہ بات انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز (آئی پی ایس) اسلام آباد میں منعقدہ ایک ہائبرڈ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں پاکستان میں سوڈانی سفیر صالح محمد احمد محمد صدیق، برطانیہ میں مقیم مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کے علاقائی امور کے ماہر اور معروف تجزیہ نگار سمیع حامدی الہاشمی، متعدد افریقی ممالک میں خدمات سرانجام دینے والے پاکستان کےسابق سفیر عمران یاور، آئی پی ایس کے نائب چیئرمین اور سابق سفیر سید ابرار حسین، ڈائریکٹر ریسرچ پروفیسر ڈاکٹر فخرالاسلام،سینئر ریسرچ فیلو ڈاکٹر طغرل یمین نے شرکت کی۔سوڈانی سفیر صالح محمد احمد نے خبردار کیا کہ سوڈان میں حالیہ بحران نہ صرف جمہوری منتقلی کے کسی بھی امکان بلکہ خطے میں استحکام اور امن کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے ریپڈ سپورٹ فورسز کے باغیانہ اقدامات اور غیر مسلح شہریوں اور بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت حال کے پیش نظر سوڈانی مسلح افواج نے ایک حکمت عملی اپنائی ہے جو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے مطابق طاقت کے محدود اور ذمہ دارانہ استعمال کی اجازت دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تشدد ملک اور خطے میں ایک انسانی بحران پیدا کر رہا ہے اور اس سے نقل مکانی، غیر قانونی امیگریشن، بین الاقوامی منظم جرائم اور بین الاقوامی اثرات وغیرہ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ سوڈانی سفیر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ جمہوری تبدیلی کے مقصد کے لیے انسانی مدد فراہم کرے۔ سمیع حامدی نے کہا کہ 2019 میں صدر عمر البشیر کی معزولی کے بعد سیاسی منتقلی جمہوری نہیں تھی۔انتخابات میں تاخیر اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے عائد پابندیوں کا واحد مقصد سوڈان میں سرکاری اور معاشرتی سطحوں پر نظریاتی تبدیلی رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بیرونی طاقتیں اس خوف کی وجہ سے کہ سوڈانی “غلط لوگوں” کا انتخاب کر سکتے ہیں، انتخابات کے ذریعے اقتدار کی منتقلی کی حمایت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ سمیع حامدی نے اس بات پر زور دیا کہ صرف انتخابات کے ذریعے ایک ناقابل تردید جمہوری مینڈیٹ سوڈان کو بین الاقوامی اداکاروں کی سماجی انجینئرنگ کے لیے مداخلتوں سے آزاد کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بحران کے جغرافیائی، سیاسی اور جیو سٹریٹجک پہلو بھی ہیں کیونکہ بعض غیر ملکی ریاستوں کے خطے میں اپنے مفادات ہیں، خاص طور پر بحیرہ احمر میں۔ ایک مستحکم اور جمہوری سوڈان درحقیقت بین الاقوامی برادری کے مفاد میں ہے۔ مقررین نے کہا کہ جب تک بیرونی ممالک سوڈان میں مداخلت نہ کرنے پر راضی نہیں ہوتے، امن کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔اگر لوگوں کو انتخاب کا حق دیا جاتا ہے، تو وہ پرامن اور جمہوری طریقے سے اقتدار قائم کرسکتےہیں۔ سید ابرار حسین نے گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوڈان کے عوام پر منحصر ہے کہ وہ اپنے مفادات کے لیے جس کو چاہیں حکمران منتخب کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو سوڈانیوں کے مقامی فیصلے کی حمایت کرنی چاہئے اور اسے کسی بھی طرح سے مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔