نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی NCCIA نے شہرِ قائد میں کارروائی کرتے ہوئے ایک غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپہ مارا ہے جہاں مبینہ طور پر بین الاقوامی سطح پر آن لائن فراڈ اور دیگر مجرمانہ سرگرمیاں جاری تھیں۔ ادارے کے حکام کے مطابق، اس کامیاب اور اچانک کارروائی کے دوران موقع سے کم افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جن سے تفتیش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ کال سینٹر مختلف طریقوں سے شہریوں کو دھوکہ دینے اور مالی رقوم ہتھیانے کے مکروہ دھندے میں ملوث تھا ذرائع کا کہنا ہے کہ چھاپے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کال سینٹر سے بڑی تعداد میں کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، جدید مواصلاتی آلات اور اہمدستاویزات قبضے میں لے لی ہیں۔ پکڑے گئے افراد میں کال سینٹر کے آپریٹرز، منیجرز اور دیگر عملہ شامل ہے، جنہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ نیٹ ورک نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ بیرون ملک مقیم افراد کو بھی جعلی کالز اور دھوکہ دہی کے ذریعے نشانہ بنا رہا تھا، جس کی وجہ سے یہ ادارہ طویل عرصے سے ان کے رڈار پر تھانیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اس بڑے گروہ کے سرغنہ اور مالی معاونین کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ اس پورے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا سکے۔ حالیہ کچھ عرصے میں سائبر کرائم کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ادارے نے اپنی کارروائیوں میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے چھاپوں سے جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے پست ہوں گے اور ڈیجیٹل فراڈ کے قلع قمع میں مدد ملے گی۔