امریکا اور چین کا ایک دوسرے کی اشیا پر ٹیرف میں کمی کا فیصلہ

عالمی اقتصادی منظر نامے میں ایک اہم پیش رفت کے دوران، ریاستہائے متحدہ امریکا اور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان تجارتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک تاریخی اتفاق رائے طے پا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے مابین ہونے والی اعلیٰ سطح کی ملاقات کے نتیجے میں دونوں اقتصادی جائنٹس نے باہمی تجارت کو فروغ دینے اور ایک دوسرے کی درآمدی اشیا پر عائد کردہ بھاری ٹیرف میں بتدریج کمی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں انتہائی خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے طویل عرصے سے جاری تجارتی جنگ کے خاتمے کی راہیں ہموار ہوں گی اور عالمی معیشت کو استحکام ملے گا سفارتی ذرائع کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات نہایت خوشگوار اور نتیجہ خیز ماحول میں ہوئی۔ مذاکرات کے دوران عالمی سپلائی چین کو درپیش چیلنجز، افراط زر کے دباؤ اور کاروباری برادری کے تحفظات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی اور چینی تجارتی وفود نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی محصولات میں کمی نہ صرف دونوں ممالک کے مفاد میں ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر کساد بازاری کے خطرات بھی ٹل جائیں گے۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم ریکارڈ سطح پر پہنچ جائے گا، جس کے مثبت اثرات پاکستان سمیت پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔پاکستان کے تجارتی اور اقتصادی حلقوں نے بھی امریکا اور چین کے مابین اس تجارتی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی تعلقات میں بہتری سے عالمی منڈیوں میں طلب بڑھے گی، جس سے پاکستانی برآمدات بالخصوص ٹیکسٹائل اور زرعی شعبے کو بھی نمایاں فائدہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں پالیسی ساز اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس کے ملکی معیشت پر پڑنے والے ممکنہ اثرات سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ دوسری جانب، عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی اس خبر کے بعد مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ